ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے مطالبات کو لے کر دونوں ممالک کی 117 سرکردہ شخصیات نے وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کو مشترکہ طور پر خط لکھا ہے۔ اس خط میں ہندوستان کے 61اور پاکستان کے 56 افراد نے دستخط کیے ہیں۔ یہ پہل ’سنٹر فار پیس اینڈ پروگرام‘ کے صدر او پی شاہ کی طرف سے کی گئی ہے۔Over 100 Prominent Citizens From India and Pakistan Write to PMs of Both Countries, Call For Ending Hostilitieshttps://t.co/gtk5PbGlMx— The Wire (@thewire_in) July 1, 2026ہندوستان کی طرف سے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی، میر واعظ عمر فاروق، کانگریس لیڈر منی شنکر ایئر، راجیہ سبھا رکن منوج جھا، را کے سابق سربراہ اے ایس دُلت سمیت کئی ماہرین تعلیم، صحافی، وکیل اور سماجی کارکنان نے اس اپیل کی حمایت کی ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی جانب سے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سابق سفارت کار اشرف جہانگیر قاضی، سائنسداں پرویز ہودبھائی اور کئی سماجی کارکنان نے دستخط کیے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان دنیا کی تقریباً ایک پانچویں آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ دونوں ممالک میں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے، لیکن مسلسل کشیدگی ان کے بہتر مستقبل، روزگار اور ترقی کے مواقع میں رکاوٹ بن رہی ہے۔دستخط کنندگان نے دونوں حکومتوں سے نئی دہلی اور اسلام آباد میں ہائی کمشنرز کی تعیناتی کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات بحال کرنے، عام شہریوں کے لیے ویزا خدمات پھر سے شروع کرنے اور سرحد پار مذہبی و ثقافتی سفروں کو آسان بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی کشمیری پنڈتوں کے مقدس مقام ’شاردا پیٹھ‘ کو عقدیت مندوں کے لیے کھولنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔ خط میں دونوں ممالک کے میڈیا پر عائد پابندیوں کو ختم کرنے اور صحافیوں کو آزادانہ طور پر رپورٹنگ کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ آخر میں کہا گیا ہے کہ یہ کسی سیاسی فریق کی حمایت نہیں، بلکہ تقریباً 2 ارب لوگوں کے مستقبل، امن اور علاقائی استحکام کے مفاد میں کی گئی اپیل ہے۔آر جے ڈی راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے ہندوستان-پاکستان کے درمیان بات چیت اور عوامی رابطوں کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ آج جو لوگ مذاکرات کی مخالفت کر رہے ہیں وہ تب کہاں تھے جب دبئی میں ہندوستان اور پاکستان کے کرکٹ میچ ہو رہے تھے یا سری لنکا میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کی خبریں سامنے آ رہی تھیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میرا مطالبہ صرف ’پیپل ٹو پیپل کانٹیکٹ‘ بحال کرنے کا ہے۔ حکومت چاہے تو سندھ آبی معاہدہ اور سیکورٹی جیسے معاملات پر اپنی سطح پر فیصلہ لے، لیکن فن، موسیقی اور عام لوگوں کے تعلقات کو ویزا اور سیاسی کشیدگی کا یرغمال نہیں بنایا جانا چاہیے۔منوج جھا کا یہ بھی کہنا ہے کہ لوگ اور ریاست الگ الگ ہوتے ہیں اس لیے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے لیے کام کرنے والے ایک پروگرام میں انہیں جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ ساتھ ہی انہوں نے پہلگام حملے کی تحقیقات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اب تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حملہ کا ذمہ دار اور سازش کرنے والا کون تھا۔ منوج جھا نے کہا کہ میں نے پارلیمنٹ میں پلوامہ حملے کے متعلق 3 بار سوال پوچھا، لیکن حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔