نئی دہلی: جولائی کے پہلے دن حکومت کی جانب سے کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 183.50 روپے کی کمی کا اعلان کیا گیا، تاہم اس فیصلے پر اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس نے اس اقدام کو ناکافی قرار دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ حکومت پہلے عوام پر بوجھ ڈالتی ہے اور پھر معمولی راحت دے کر اسے بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرتی ہے۔لکھنؤ میں کانگریس کے ترجمان سریندر راجپوت نے کہا کہ کمرشیل ایل پی جی کی قیمت میں کمی سے ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے حکومت نے عوام پر کوئی بڑا احسان کیا ہو۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا، ’’یہ حکومت پہلے لوگوں کی آنکھیں چھینتی ہے، پھر انہیں چشمہ دیتی ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ پہلے گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جاتا ہے اور بعد میں معمولی کمی کر کے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ کمی صرف کمرشیل ایل پی جی سلنڈر تک محدود ہے، جبکہ مہنگائی کے باعث عام لوگوں اور کاروباری طبقے کو جن مشکلات کا سامنا ہے، ان کے ازالے کے لیے حکومت کے پاس کوئی مؤثر منصوبہ نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور حکومت معمولی کمی کرکے تشہیر حاصل کرنا چاہتی ہے، لیکن عوام حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔کمرشیل گیس سلنڈر استعمال کرنے والوں کو ملی خوشخبری، قیمت میں 183.50 روپے کی کمیسماجوادی پارٹی کے رہنما فخرالحسن چاند نے کہا کہ بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی نہیں کی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب گیس کی قلت ہوتی ہے تو قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں، لیکن حالات معمول پر آنے کے بعد بھی نرخ کم کرنے میں تاخیر کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی پالیسیاں عام آدمی کے بجائے بڑے سرمایہ داروں کے حق میں ہیں۔پٹرول، ڈیزل اور گیس مہنگی کرنے والی مودی حکومت خام تیل سستا ہونے پر بھی عوام کو راحت نہیں دے رہی: کانگریسراشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیمنٹ سدھاکر سنگھ نے کہا کہ قیمت کم کرنے سے پہلے عوام کو گیس کی مناسب فراہمی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو گیس دستیاب ہی نہ ہو تو قیمت میں کمی کا عملی فائدہ محدود رہ جاتا ہے، تاہم انہوں نے قیمت میں کمی کو ایک مثبت قدم بھی قرار دیا۔راشٹریہ جنتا دل کے ترجمان مرتیونجے تیواری نے کہا کہ حکومت پہلے قیمتوں میں نمایاں اضافہ کرتی ہے اور پھر معمولی کمی کر کے یہ تاثر دیتی ہے کہ مہنگائی کم ہو گئی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عوام اب بھی مہنگائی کے شدید بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔