پنجاب اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے پیش نظر کانگریس نے ریاستی تنظیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرتے ہوئے مختلف انتخابی کمیٹیوں کے سربراہوں اور شریک سربراہوں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تمام تقرریاں فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی۔نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی کو انتخابی مہم کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ پارٹی قیادت کو امید ہے کہ وہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں انتخابی مہم کی نگرانی کرتے ہوئے کانگریس کی سرگرمیوں کو منظم انداز میں آگے بڑھائیں گے۔اسی طرح وجے اندر سنگلا کو انتخابی نظم و نسق اور رابطہ کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا ہے، جبکہ کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ سکھجیندر سنگھ رندھاوا کو کور کمیٹی کی قیادت سونپی گئی ہے۔ منشور کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر ڈاکٹر امر سنگھ کو مقرر کیا گیا ہے، جو انتخابات کے لیے پارٹی کا انتخابی منشور تیار کرنے کے عمل کی نگرانی کریں گے۔کانگریس نے واضح کیا ہے کہ پنجاب پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر امرندر سنگھ راجہ وڑنگ اپنی ذمہ داری پر بدستور برقرار رہیں گے، جبکہ پنجاب اسمبلی میں کانگریس مقننہ پارٹی کے قائد کے طور پر پرتاپ سنگھ باجوہ بھی اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے۔پارٹی نے پنجاب پردیش کانگریس کمیٹی کے لیے تین ورکنگ صدور کا بھی تقرر کیا ہے۔ ان میں سکھویندر سنگھ ڈینی، راج کمار ورکا اور سنگت سنگھ گلزیاں شامل ہیں۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ تقرریاں تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے اور انتخابی تیاریوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے مقصد سے کی گئی ہیں۔اعلامیے میں مختلف انتخابی کمیٹیوں کے شریک چیئرمینوں کے نام بھی جاری کیے گئے ہیں۔ انتخابی مہم کمیٹی کے شریک چیئرمین سکھپال سنگھ کھیرا، رانا گرجیت سنگھ اور ڈاکٹر دھرمویرا گاندھی ہوں گے۔ انتخابی نظم و نسق اور رابطہ کمیٹی کے شریک چیئرمین او پی سونی، رضیہ سلطانہ، کلجیت سنگھ ناگرا، انگد سنگھ سینی اور بھارت بھوشن آشو مقرر کیے گئے ہیں۔اسی طرح منشور کمیٹی کے شریک چیئرمین گرجیت سنگھ اوجلا، پرگت سنگھ، ہردیال سنگھ کمبوج اور سکھبندر سنگھ سرکاریا ہوں گے۔ کانگریس کی جانب سے یہ تنظیمی رد و بدل ایسے وقت کیا گیا ہے جب پنجاب اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں سیاسی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ پارٹی قیادت کو توقع ہے کہ نئی ذمہ داریوں کے ساتھ مختلف کمیٹیاں انتخابی حکمت عملی، تنظیمی رابطوں اور مہم کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔