’غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مودی حکومت کی پالیسیوں پر بھروسہ نہیں‘، ایف پی آئی کے ریکارڈ انخلا پر کانگریس کا ردعمل

Wait 5 sec.

غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے ہندوستانی شیئر بازار سے سرمایہ نکالنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اس رجحان پر کانگریس نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’غیر ملکی سرمایہ کار (ایف پی آئی) ہندوستان کی مارکیٹ سے پیسہ نکال رہے ہیں۔ حالات اس قدر خراب ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کاری 20 سالہ کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔‘‘ پارٹی نے مزید لکھا کہ ’’دراصل غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مودی حکومت کی پالیسیوں پر بھروسہ نہیں ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ کمزور معیشت کے باعث ان کا پیسہ ڈوب جائے گا۔ حکومت نے بڑے بڑے وعدے تو کیے تھے، لیکن وہ عملی طور پر پورے نہیں ہو سکے۔ ساتھ ہی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بھی ہم دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت پچھڑ گئے ہیں۔ مجموعی طور پر نریندر مودی نے ملک کی معیشت کو تباہ کر دیا ہے اور خود عیش کر رہے ہیں۔‘‘विदेशी निवेशक (FPI) भारत के बाजार से पैसा न‍िकाल रहे हैं।हालात इतने खराब हैं क‍ि व‍िदेशी न‍िवेश 20 साल के न‍िचले स्‍तर पर पहुंच गया है।दरअसल, व‍िदेशी न‍िवेशकों को मोदी सरकार की नीत‍ियों पर भरोसा नहीं है। उन्‍हें डर है क‍ि खराब अर्थव्‍यवस्‍था की वजह से उनका पैसा डूब जाएगा।… pic.twitter.com/3xb2U8EC63— Congress (@INCIndia) July 2, 2026قابل ذکر ہے کہ جون کے مہینے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے گھریلو شیئر بازار سے مجموعی طور پر 49340 کروڑ روپے کا سرمایہ نکال لیا۔ اس فروخت کی بنیادی وجوہات میں عالمی سطح پر خطرات سے بچنے کا رجحان، ترقی یافتہ منڈیوں کو ترجیح، امریکی بانڈز میں تیزی اور گھریلو شیئر بازار میں حصص کی اونچی قیمتیں شامل ہیں۔ سنٹرل ڈپازٹری سروسز (انڈیا) لمیٹڈ کے اعداد و شمار کے مطابق اس تازہ انخلا کے ساتھ 2026 میں اب تک غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کار (ایف پی آئی) ہندوستانی ایکویٹی مارکیٹ سے مجموعی طور پر 2.7 لاکھ کروڑ روپے (31 بلین ڈالر) نکال چکے ہیں۔ یہ پورے سال 2025 میں نکالی گئی 1.66 لاکھ کروڑ روپے کی رقم سے کہیں زیادہ ہے۔اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ایف پی آئی فروری کو چھوڑ کر 2026 کے ہر مہینے میں خالص فروخت کنندہ بنے رہے۔ انہوں نے جنوری میں 35962 کروڑ روپے نکالے، جبکہ فروری میں خالص خریدار بن کر 22615 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی، جو 17 ماہ میں سب سے زیادہ ماہانہ آمد تھی۔ حالانکہ مارچ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ریکارڈ 1.17 لاکھ کروڑ روپے نکالے۔ اپریل میں 60847 کروڑ روپے اور مئی میں 32963 کروڑ روپے کے انخلا کے ساتھ فروخت کا دباؤ جاری رہا۔ ایف پی آئی نے جون میں 49340 کروڑ روپے نکالے۔’مودی حکومت معاشی محاذ پر دباؤ میں‘،ایف پی آئی ٹیکس میں نرمی معاملہ پر جئے رام رمیش کا حملہمارننگ اسٹار انویسٹمنٹ ریسرچ انڈیا کے ہیڈ آف مینیجر ریسرچ ہمانشو شریواستو نے کہا کہ جون کے پہلے پندرہ دنوں میں سرمایہ کاری کا انخلا عالمی خطرات سے بچنے، ترقی یافتہ بازاروں کو ترجیح دینے، امریکی بانڈز پر منافع  زیادہ ہونے اور ہندوستانی شیئرز کی ویلیوایشن کے حوالے سے خدشات کی وجہ سے ہوا۔ حالانکہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے سلسلے میں مثبت پیش رفت کے بعد جون کے دوسرے پندرہ دنوں میں جغرافیائی سیاسی خطرات کم ہوئے۔ اس سے عالمی بازاروں میں غیر یقینی صورتحال کچھ کم ہونے اور خام تیل کی قیمتوں میں بہتری آنے میں مدد ملی۔ اس سے خطرے کے احساس میں بہتری آئی اور توانائی کی قیمتوں میں اچانک اچھال کے حوالے سے خدشات کم ہوئے۔ اس کے نتیجے میں مہینے کے آخر میں ایف پی آئی کی فروخت کی رفتار سست ہوئی۔ لیکن یہ پہلے ہونے والے بڑے پیمانے پر سرمائے کے انخلا کی تلافی کرنے کے لیے کافی نہیں تھی۔