ٹوٹے ہوئے دہلی-دہرادون ایکسپریس وے نے بڑھا دیا حادثوں کا خطرہ، کانگریس نے عائد کیا بدعنوانی کا الزام

Wait 5 sec.

ملک کے مختلف علاقوں میں تعمیر ہوئی نئی سڑکوں اور پلوں کی خستہ حالی اب عام بات بن گئی ہے۔ تازہ معاملہ دہلی-دہرادون ایکسپریس وے سے جڑا ہوا ہے، جس کا افتتاح رواں سال ہی ہوا تھا اور اب کئی جگہ گڈھے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس تعلق سے کانگریس نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت کے دور میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں بدعنوانی کے باعث عوامی اثاثے خراب ہو رہے ہیں۔नरेंद्र मोदी ने 14 अप्रैल 2026 को दिल्ली-देहरादून एक्सप्रेस वे का उद्घाटन किया था। लेकिन 12,000 करोड़ रुपये की लागत से बने इस एक्सप्रेस वे में 2 महीने बाद ही बड़े-बड़े गड्ढे हो गए।ये दिखाता है कि इस एक्सप्रेस वे को बनाने में जमकर भ्रष्टाचार और पैसों का बंदरबांट किया गया है।… pic.twitter.com/yvrjGWOmMk— Congress (@INCIndia) July 2, 2026کانگریس نے دہلی-دہرادون ایکسپریس وے کی خراب حالت کا نظارہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر ایک ویڈیو کے ذریعہ دکھایا ہے۔ اس سوشل میڈیا پوسٹ پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ 14 اپریل 2026 کو وزیر اعظم نریندر مودی کے افتتاح کردہ دہلی-دہرادون ایکسپریس وے پر بڑے بڑے گڈھے پڑ گئے ہیں۔ کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’نریندر مودی نے 14 اپریل 2026 کو دہلی-دہرادون ایکسپریس وے کا افتتاح کیا تھا، لیکن صرف 2 ماہ بعد ہی 12 ہزار کروڑ روپے کے خرچ سے تعمیر ہونے والے اس ایکسپریس وے پر بڑے بڑے گڈھے نظر آنے لگے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ایکسپریس وے کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور فنڈز میں خرد برد ہوئی ہے۔‘‘کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ بدعنوانی کا واحد واقعہ نہیں ہے۔ ملک بھر میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبے خراب ہو رہے ہیں۔ کانگریس نے کہا کہ ’’یہ پہلا معاملہ نہیں ہے۔ ملک بھر میں چاہے پل ہوں یا سڑکیں، شاہراہیں ہوں یا پانی کی ٹنکیاں، ریلوے اسٹیشن ہوں یا ہوائی اڈوں کی چھتیں، ہر جگہ بنیادی ڈھانچہ خراب ہو رہا ہے۔‘‘ مرکز کی مودی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ ’’مجموعی طور پر بات بالکل واضح ہے۔ مودی حکومت ملک اور عوام دونوں کے لیے خطرناک ہے۔‘‘’مالک کے لیے کچھ بھی...‘، کانگریس نے مودی حکومت کے ’گریٹ نکوبار پروجیکٹ‘ کی خامیوں سے اٹھایا پردہکانگریس نے بتایا کہ پی ایم مودی نے 14 اپریل کو دہلی-دہرادون اکونومک کوریڈور کا افتتاح کیا تھا، جسے اتراکھنڈ اور وسیع علاقہ کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا تھا۔ 213 کلومیٹر طویل، 6 لین پر مشتمل، محدود رسائی والے دہلی-دہرادون اکونومک کوریڈور کی تعمیر پر 12 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ لاگت آئی ہے۔ یہ کوریڈور دہلی، اتر پردیش اور اتراکھنڈ سے گزرتا ہے۔ اسے کئی ایسی خصوصیات کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا ہے جن کا مقصد انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم کے امکانات کو کافی حد تک کم کرنا ہے۔قابل ذکر ہے کہ دہلی-دہرادون اکونومک کوریڈور سے ہونے والی بڑی تبدیلیوں اور فوائد کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس منصوبے کے خطے پر مرتب ہونے والے متعدد مثبت اثرات بیان کیے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس ایکسپریس وے سے مسافروں کے سفر کا وقت اور خرچ دونوں میں نمایاں کمی آئے گی، جس سے ایندھن کی بچت ہوگی اور مال برداری کا خرچ بھی کم ہوگا۔ وزیر اعظم مودی نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ صرف ایک سڑک نہیں ہے بلکہ پورے خطے میں تجارت، صنعت، ویئرہاؤسنگ اور لاجسٹکس کے لیے نئے مواقع پیدا کرتی ہے۔