کیتن اگروال کیس: سیاگوئل اور چیتن چوہدری کی الزام تراشی پر پولیس کا اہم فیصلہ

Wait 5 sec.

کیتن اگروال قتل کیس میں پولیس نے ملزمان کا جھوٹ پکڑنے کے لیے لائی ڈیٹیکٹر ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ممبئی: لونا والا کے پہاڑی مقام پر واقع لوہا گڑھ قلعے سے کیتن اگروال کو دھکا دے کر قتل کرنے کے کیس میں سیاگوئل اور چیتن کی ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بعد پولیس ملزمان کا لائی ڈیٹیکٹر ٹیسٹ کروانے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔سیا 20 سال اور کیتن 26 سال کی منگنی اسی سال فروری میں ہوئی تھی اور ان کی شادی نومبر میں اودے پور میں طے تھی، تاہم، سیا کے چیتن (22 سال) کے ساتھ تعلقات تھے۔"ketan agarwal” – ARY Newsسیا اور چیتن کی جوڑی نے کیتن کو راستے سے ہٹانے کی سازش تیار کی مختلف طریقے تلاش کیے اور باقاعدہ مشق (ریہرسل) کی جس کے بعد بالآخر 18 جون کو کیتن کو لوہا گڑھ قلعے کی چٹان سے نیچے پھینک دیا۔پولیس کارروائی اور تحقیقاتپولیس نے اس معاملے کو حادثاتی موت کے طور پر درج کیا تھا تاہم تفصیلی تفتیش کے بعد اسے ایف آئی آر میں تبدیل کر دیا گیا جس کے نتیجے میں دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔سیا اور چیتن اس وقت لوناوالا گرامین پولیس اسٹیشن کی تحویل میں ہیں اور انہیں جمعہ کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔پونے رورل پولیس نے جائے وقوعہ کا ازسرنو جائزہ لے کر جرم کا منظرنامہ دوبارہ تخلیق کیا اور دونوں ملزمان ان کے اہل خانہ اور گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے۔چونکہ ملزمان ایک دوسرے پر الزام ڈال رہے ہیں اس لیے پولیس اب لائی ڈیٹیکٹر ٹیسٹ کا سہارا لینے کا سوچ رہی ہے۔پولیس میگھالیہ کے ‘ہنیمون مرڈر کیس’ کا بھی مطالعہ کر رہی ہے جس میں صنم رگھوونشی نامی خاتون نے اپنے شوہر راجہ رگھوونشی کو قتل کر دیا تھا اور پولیس کی تکنیکی و قانونی غلطیوں کی وجہ سے ملزمہ کو ضمانت مل گئی تھی۔