نئی دہلی: ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے پارٹی کے باغی ارکانِ اسمبلی کے وفد کی جانب سے الیکشن کمیشن سے ملاقات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممتا بنرجی کے اتنے برے دن نہیں آئے کہ انہیں اپنی جماعت کی اصلی حیثیت ثابت کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کے دروازے پر جانا پڑے۔ انہوں نے باغی گروپ کو ’فرضی‘ اور ’غدار‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل جماعت کو اپنی شناخت ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔مہوا موئترا نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کون کس سے ملاقات کرتا ہے، اس پر انہیں کوئی تبصرہ نہیں کرنا، تاہم اگر کوئی خود کو اصلی ترنمول کانگریس ثابت کرنے کے لیے الیکشن کمیشن جا رہا ہے تو اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے بارے میں خود بھی غیر یقینی کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ فرضی ہوتے ہیں، وہی سڑکوں پر آ کر خود کو اصلی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ممتا بنرجی اپنی جگہ مضبوطی سے موجود ہیں اور پوری جماعت ان کی قیادت میں متحد ہے۔ ان کے بقول، ممتا بنرجی کو کبھی اس بات کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کہ وہ الیکشن کمیشن جا کر کہیں کہ وہی اصل ترنمول کانگریس کی سربراہ ہیں۔ مہوا موئترا نے الزام لگایا کہ جو لوگ جماعت سے الگ ہوئے ہیں، وہی ایسے اقدامات کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے پارٹی سے غداری کی ہے۔اس سے قبل ترنمول کانگریس کے باغی ارکانِ اسمبلی کے گروپ نے نئی دہلی میں الیکشن کمیشن سے ملاقات کی۔ باغی گروپ کے رہنما رتبرت بنرجی نے بتایا کہ انہوں نے 23 جون کو الیکشن کمیشن کی مکمل بنچ سے ملاقات کے لیے درخواست دی تھی، جس کے بعد انہیں ملاقات کا وقت دیا گیا۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن کے ساتھ طویل گفتگو ہوئی اور کمیشن نے ان کے دلائل سنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام حقائق کا جائزہ لینے اور ضروری جانچ مکمل کرنے کے بعد اپنا فیصلہ یا جواب دے گا۔رتبرت بنرجی نے یہ بھی کہا کہ ان کا گروپ خود کو ترنمول کانگریس کی حقیقی نمائندہ جماعت سمجھتا ہے اور اسی بنیاد پر الیکشن کمیشن سے رجوع کیا گیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ تنظیمی اور آئینی معاملات کی روشنی میں ان کے دعوے پر غور کیا جانا چاہیے۔واضح رہے کہ 23 جون کو ترنمول کانگریس کے باغی ارکانِ اسمبلی نے اصل جماعت سے الگ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ایک نیا گروپ تشکیل دیا تھا۔ اس موقع پر منعقدہ اجلاس میں ممتا بنرجی کو جماعت کے صدر کے عہدے سے ہٹانے کا اعلان کیا گیا، جبکہ اروپ رائے کو نیا صدر اور رتبرت بنرجی کو جنرل سیکریٹری منتخب کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔ اس پیش رفت کے بعد مغربی بنگال کی سیاست میں ترنمول کانگریس کے اندر جاری اختلافات مزید نمایاں ہو گئے ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن کی آئندہ کارروائی پر سیاسی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔