آپریشن سندور: کے سی وینوگوپال کا اسپیکر کو خط، راج ناتھ سنگھ کے خلاف تحریکِ استحقاق کا مطالبہ

Wait 5 sec.

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے آپریشن سندور سے متعلق وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع نے پارلیمنٹ میں آپریشن کے دوران فوجیوں کی شہادت سے متعلق گمراہ کن بیان دیا، اس لیے ان کے خلاف تحریکِ استحقاق متعارف کرائی جانی چاہیے۔کے سی وینوگوپال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ آپریشن سندور پر لوک سبھا میں ہونے والی بحث کے دوران راج ناتھ سنگھ نے ملک کے عوام اور ایوان کو گمراہ کیا۔ ان کے مطابق وزیر دفاع نے جولائی 2025 میں ایوان میں کہا تھا کہ اس آپریشن کے دوران کسی بھی ہندوستانی فوجی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، لیکن ایک سال بعد فوج نے خود اعلان کیا کہ اس کارروائی میں چھ جوان شہید ہوئے تھے۔انہوں نے سوال کیا کہ اگر آپریشن کے دوران چھ فوجی شہید ہوئے تھے تو وزیر دفاع نے ایوان میں یہ بیان کیسے دیا کہ کسی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے کے مترادف بھی ہے۔کانگریس رہنما نے کہا کہ ان چھ شہید فوجیوں کے اہل خانہ اور پوری ہندوستانی فوج کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، کیونکہ عوام کو ان کی بہادری اور قربانی کے بارے میں صحیح وقت پر آگاہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق ان فوجیوں نے دشمن سے ملک کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں، لیکن حکومت نے ان کی شہادت کی حقیقت عوام سے پوشیدہ رکھی۔جب راجناتھ سنگھ پارلیمنٹ میں جھوٹ بول رہے تھے، تب بی جے پی اراکین پارلیمنٹ تالیاں بجا رہے تھے: کانگریسکے سی وینوگوپال نے اپنے بیان میں کہا کہ پارلیمانی روایات کے مطابق اگر کوئی وزیر ایوان کو گمراہ کرے یا اہم معلومات چھپائے تو اسے استحقاق کی خلاف ورزی اور ایوان کی توہین تصور کیا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے لوک سبھا اسپیکر سے راج ناتھ سنگھ کے خلاف تحریکِ استحقاق شروع کرنے کی درخواست کی ہے۔لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو لکھے گئے خط میں وینوگوپال نے یاد دلایا کہ 28 جولائی 2025 کو پہلگام دہشت گردانہ حملے اور آپریشن سندور پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر دفاع نے ایوان میں کہا تھا کہ اگر سوال یہ ہے کہ کیا اس آپریشن میں ہمارے کسی فوجی کو نقصان پہنچا، تو اس کا جواب "نہیں" ہے۔کانگریس نے راجناتھ سنگھ سے مانگا استعفیٰ، ’آپریشن سندور‘ پر پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے کا الزامانہوں نے خط میں مزید کہا کہ بعد میں جاری سرکاری معلومات میں بتایا گیا کہ آپریشن سندور کے دوران چھ فوجی شہید ہوئے تھے، جس سے وزیر دفاع کا بیان حقائق سے متصادم ثابت ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ایوان میں غلط یا گمراہ کن معلومات دینا ایک سنگین پارلیمانی معاملہ ہے، جس پر قواعد کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔تاحال اس معاملے پر مرکزی حکومت یا وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم کانگریس نے اس معاملے کو پارلیمانی جوابدہی اور شفافیت سے جوڑتے ہوئے اس کی جانچ اور مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔