’پھر نفرت اور تشدد کی آگ میں 20 گھر راکھ ہو گئے‘، منی پور میں تازہ کشیدگی پر راہل گاندھی کا اظہارِ فکر

Wait 5 sec.

منی پور میں ناگا اور کوکی طبقہ کے درمیان ایک بار پھر شدید کشیدگی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تازہ کشیدگی میں شرپسندوں نے کم از کم 20 گھروں کو نذر آتش کر دیا۔ اس تعلق سے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے اپنی شدید فکر کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے خاص طور سے مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’’منی پور سالوں سے جل رہا ہے، اور آج پھر نفرت اور تشدد کی آگ میں 20 گھر راکھ ہو گئے۔‘‘मणिपुर सालों से जल रहा है, और आज फिर नफ़रत और हिंसा की आग में 20 घर राख हो गए।दो सरकारों और राष्ट्रपति शासन के बावजूद संघर्ष गहराता ही जा रहा है। हज़ारों लोग अपनी जान गंवा चुके हैं, अनगिनत परिवार उजड़ गए हैं - मणिपुर जिस असहनीय पीड़ा से गुज़र रहा है, उसकी कल्पना भी मुश्किल है।… pic.twitter.com/oT8d2N4Ord— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) July 2, 2026یہ بیان راہل گاندھی نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل ’ایکس‘ پر دیا ہے، جس میں ہندی نیوز پورٹل ’دینک جاگرن‘ کی اس خبر کا اسکرین شاٹ بھی لگایا ہے، جس میں 20 گھروں کو نذر آتش کیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔ اس پوسٹ میں راہل گاندھی نے مرکز کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’2 حکومتوں اور صدر راج کے باوجود کشیدگی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ ہزاروں لوگ اپنی جان گنوا چکے ہیں، لاتعداد خاندان اجڑ گئے ہیں۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’منی پور جس ناقابل برداشت تکلیف سے گزر رہا ہے، اس کا تصور بھی محال ہے۔‘‘منی پور میں طویل عرصہ سے تشدد والے حالات کے لیے کانگریس رکن پارلیمنٹ نے تخریب کاری نظریات کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ’’یہ مودی حکومت کے اس تخریبی نظریہ کا نتیجہ ہے، جو لوگوں کو مذہب، ذات، زبان، علاقہ اور شناخت کے نام پر تقسیم کرتا ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’آج منی پور ہی نہیں، پورا ملک وزیر اعظم سے ہمدردی کے دو لفظ کی بھی امید چھوڑ چکا ہے، کارروائی کی بات تو بہت دور ہے۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں راہل گاندھی نے لکھا ہے کہ ’’منی پور بہتر کا حقدار ہے، اور اس کے لیے ہندوستان جوڑنا ہی واحد راستہ ہے۔‘‘