امریکی ملازمتیں امریکیوں کیلئے ہیں غیر ملکی فراڈیوں کیلئے نہیں: جے ڈی وینس

Wait 5 sec.

واشنگٹن(10 جولائی 2026): امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایچ-1 بی ویزا پروگرام میں بڑے پیمانے پر ہونے والے مبینہ فراڈ کی تحقیقات پر سخت موقف اپنایا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا میں غیر ملکی ہنر مند پیشہ ور افراد کی بھرتی کے لیے استعمال ہونے والا یہ ورک ویزا پروگرام ٹرمپ انتظامیہ کی اب تک کی سب سے بڑی فراڈ تحقیقات کا حصہ بن چکا ہے۔اس موقع پر نائب صدر نے ان کمپنیوں اور عناصر کو سخت خبردار کیا ہے جو امریکی کارکنوں کے مفادات کی قیمت پر اس نظام کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ریاست وسکونسن کے شہر ملواکی میں ایئر نیشنل گارڈ کے بیس کے دورے کے دوران جے ڈی وینس نے بتایا کہ امریکی محکمۂ محنت پہلے ہی اس سلسلے میں متعدد افراد اور اداروں کے خلاف سمن جاری کر چکا ہے اور غیر ملکی فراڈیوں کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری فراڈ ٹاسک فورس انتہائی وسیع پیمانے پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد ناصرف ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا تحفظ ہے بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ کوئی اس ویزا پروگرام کا ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے۔نائب صدر نے ایچ-1 بی ویزا کے اصل مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد کسی غیر معمولی ٹیکنالوجی کے ماہر، ممتاز سائنس دان یا بہترین ڈاکٹر کو امریکا میں قانونی طور پر کام کرنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔تاہم، وقت کے ساتھ اس مقصد سے انحراف کیا گیا اور اب بیشتر بڑی کمپنیاں اور بیرونِ ملک موجود فراڈ کرنے والے عناصر اس پروگرام کو امریکی کارکنوں کی اجرتیں کم رکھنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔جے ڈی وینس نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ یہ پیغام دے رہی ہے کہ اب ایسا مزید نہیں چلے گا۔ اگر کوئی بھی اس ویزا پروگرام کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا، تو اسے امریکا میں داخلے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔