ایودھیا کے رام مندر میں نذرانے کی چوری کے معاملے کی تحقیقات جاری ہے۔ ایس آئی ٹی کی تحقیقات کے درمیان گرفتار ملزمین اور ان کے خاندان کے افراد کے 30 بینک کھاتوں کو منجمد کر دیا گیا ہے۔ اب، شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ نے چمپت رائے، سابق جنرل سکریٹری، اور دیگر کے خلاف اہم کارروائی کی ہے جبکہ انہوں نے پہلے ہی استعفیٰ دے دیاہے۔ ٹرسٹ نے چمپت رائے، انل مشرا اور گوپال راؤ کی ڈیجیٹل آئی ڈی کو غیر فعال کر دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق ان ڈیجیٹل آئی ڈیز کا استعمال وی آئی پی درشن پاس جاری کرنے کے لیے کیا جاتا تھا۔ مندر انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے لیا گیا ہے کہ وی آئی پی اور ترجیحی درشن پاسوں کو جاری کرنے میں کوئی بے ضابطگی نہ ہو۔ ٹرسٹ کے کارگذار جنرل سکریٹری کرشنا موہن کی قیادت میں نئی مندر انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا۔ڈیجیٹل آئی ڈیزکے غیر فعال ہونے کے بعد، 'سوگم' یا 'وششٹ درشن' پاس اب ان تینوں کی ڈیجیٹل اسناد یا سفارشات کی بنیاد پر جاری نہیں کیے جائیں گے۔ مندر انتظامیہ نے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا ہے جب چوری کے نذرانے میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات جاری ہیں۔ اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم(ایس آئی ٹی )بے ضابطگیوں کی جانچ کر رہی ہے۔نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس آئی ٹی کی تحقیقات میں ڈیجیٹل آئی ڈی کے غلط استعمال کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس آئی ٹی کی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ٹرسٹیوں اور سینئر عہدیداروں کی ڈیجیٹل آئی ڈی کا غلط استعمال کرتے ہوئے اندھا دھند وی آئی پی پاس جاری کئے گئے تھے۔ ڈیجیٹل آئی ڈی کا مقصد وی آئی پی درشن کی سہولت فراہم کرنا تھا، لیکن ان کا غلط استعمال بھی ہوا۔