اتراکھنڈ: چٹ فنڈ گھوٹالہ میں سی بی آئی کی کارروائی، 18 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل

Wait 5 sec.

سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے اتراکھنڈ کے مشہور ایل یو سی سی (لونی اربن ملٹی اسٹیٹ کریڈٹ اینڈ تھرفٹ کوآپریٹو سوسائٹی) چٹ فنڈ گھوٹالے میں بڑی کارروائی کی ہے۔ سی بی آئی نے یہاں 18 ملزمان اور ایک ادارے کے خلاف خصوصی عدالت (بڈز ایکٹ)، دہرادون میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ سی بی آئی نے کلیدی ملزم سمیر اگروال سمیت شاداب حسین، اتم کمار سنگھ راجپوت، سونیا اگروال، مایا سنگھ راجپوت اور دیگر ملزمان کے خلاف انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی)، بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس)، اتراکھنڈ پروٹیکشن آف انویسٹرز انٹرسٹس ایکٹ بیننگ آف ان ریگولیٹڈ ڈپازٹ اسکیمز ایکٹ (بی یو ڈی ایس) کی مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے ہیں۔سی بی آئی کے مطابق 2025 میں اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے حکم پر ایل یو سی سی گھوٹالے سے متعلق تمام مقدمات کی تحقیقات ایجنسی کے سپرد کی گئی تھیں۔ اس کے بعد سی بی آئی نے 26 نومبر 2025 کو معاملہ درج کر کے ریاست کے الگ الگ تھانوں میں درج 18 ایف آئی آر کی تفتیش اپنے ہاتھ میں لے لی۔ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ ایل یو سی سی سوسائٹی کی رجسٹریشن 2012 میں ہوئی تھی۔ 2016 میں سمیر اگروال نے سوسائٹی کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے کر نیا بورڈ آف ڈائریکٹر تشکیل دیا۔ اس کے بعد اتراکھنڈ میں 50 سے زیادہ شاخوں کے ذریعے لوگوں سے مختلف سرمایہ کاری اسکیموں کے نام پر پیسہ جمع کروایا گیا۔سی بی آئی کا الزام ہے کہ سوسائٹی نے اتراکھنڈ میں باضابطہ اجازت ملنے سے پہلے ہی اپنا کام شروع کر دیا تھا۔ تفتیش میں یہ بھی پتہ چلا کہ ادارے کے پاس کوئی حقیقی کاروبار یا آمدنی کا ذریعہ نہیں تھا۔ پرانے سرمایہ کاروں کو رقم کی ادائیگی نئے سرمایہ کاروں سے جمع کروائے گئے پیسوں سے کی جاتی تھی۔ اس طرح ایل یو سی سی مبینہ طور پر ’پونزی اسکیم‘ چلا کر لوگوں سے دھوکہ دہی کر رہی تھی۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران اکٹھے کیے گئے شواہد کی بنیاد پر چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔ اب اس معاملے کی سماعت خصوصی عدالت میں ہوگی۔سی بی آئی نے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے جو مشتبہ افراد کی شناخت کرنے اور انہیں پکڑنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کام کر رہی ہے۔ اس ٹیم نے اتراکھنڈ، اتر پردیش اور مہاراشٹر میں ملزمان سے وابستہ 39 جائیدادوں کی شناخت کی ہے اور بڈز ایکٹ 2019 کے تحت انہیں ضبط کرنے کے لیے پیش کیا ہے۔ 29 جائیدادوں کو عارضی طور پر ضبط کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں اور ان کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ باقی 10 جائیدادوں پر کارروائی جاری ہے۔