(12 جولائی 2026): آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی جہاں امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے کیے۔ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ امریکی حملوں میں ایران کے دو فوجی شہید ہوگئے جن میں بحریہ کے لیفٹیننٹ حامد رضا دہقانی بھی شامل ہیں جو بندر گاہ جاسک پر حملے میں نشانہ بنے۔بوشہر میں بھی ایرانی فوج کا ایک اہلکار شہید ہوگیا، چار روز میں امریکی حملوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد 19 ہوگئی، امریکی حملوں میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں عام شہری بھی شامل ہیں۔آبنائے ہرمز تاحکم ثانی بندقبل ازیں، ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا کہ پاسداران انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو آئندہ اطلاع تک عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ (آئی آر آئی بی) کے مطابق آئی آر جی سی نیوی نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں غیر ملکی مداخلت اور جہاز رانی کے لیے مبینہ طور پر غیر قانونی راستہ مقرر کرنے کی کسی بھی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔پاسداران نیوی کے مطابق متعدد بحری جہازوں نے اپنے راستے کی درستی اور منظور شدہ بحری گزرگاہ اختیار کرنے سے متعلق انتباہات کو نظر انداز کیا۔ ایک جہاز نے مبینہ طور پر اپنے نیویگیشن سسٹمز بند کر دیے تھے اور بحری سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا تھا، راستہ تبدیل کرنے کا حکم نظر انداز کرنے پر اس پر انتباہی فائرنگ کی گئی۔