مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے ریاستی وقف بورڈ میں دو غیر مسلم اراکین کی تقرری کے بعد سیاسی اور سماجی سطح پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے وقف ترمیمی قانون 2025 کے تحت وقف بورڈ کی تشکیل نو کرتے ہوئے اندور کے منوج مالپانی اور ضلع گنا کے راگھوگڑھ کے رہنے والے انیمیش بھارگو کو رکن نامزد کیا ہے، جبکہ سنور پٹیل کو دوسری مرتبہ مدھیہ پردیش وقف بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے دعویٰ کیا ہے کہ مدھیہ پردیش نئے قانون کے مطابق وقف بورڈ تشکیل دینے والی ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے۔تاہم اس فیصلے کے فوراً بعد مسلم تنظیموں نے سخت اعتراض ظاہر کیا۔ ریاستی راجدھانی بھوپال میں آل انڈیا مسلم تہوار کمیٹی کے بینر تلے بڑی تعداد میں لوگوں نے احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وقف مسلم برادری کی مذہبی اور سماجی امانت ہے، اس لیے اس کے انتظام میں غیر مسلم اراکین کی شمولیت مناسب نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اپنا فیصلہ واپس لے، بصورت دیگر ریاست بھر میں احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔بی بی سی کے مطابق آل انڈیا مسلم تہوار کمیٹی کے سرپرست شمس الحسن نے کہا کہ اگر حکومت وقف بورڈ میں ماہر افراد کو شامل کرنا چاہتی تھی تو مسلم برادری میں ریٹائرڈ آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران، ڈاکٹروں، انجینئروں اور دیگر اہل افراد کی کوئی کمی نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم برادری نے کبھی ایودھیا، سومناتھ یا متھرا جیسے ہندو مذہبی اداروں کے انتظام میں نمائندگی کا مطالبہ نہیں کیا، پھر وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کو شامل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نئے قانون کے نافذ ہوتے ہی جلدبازی میں بورڈ تشکیل دے دیا گیا۔اس معاملے پر کانگریس نے بھی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ بھوپال مدھیہ حلقے سے کانگریس کے رکن اسمبلی عارف مسعود نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وقف ترمیمی قانون کی آئینی حیثیت پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، اس لیے حکومت کو جلدبازی میں وقف بورڈ تشکیل نہیں دینا چاہیے تھا۔ ان کا الزام تھا کہ بورڈ کی تشکیل میں قانونی ضابطوں کی بھی مکمل پابندی نہیں کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانون میں دیگر برادریوں کے دو نمائندوں کی گنجائش ہے، جبکہ حکومت نے تین غیر مسلم نمائندوں کو شامل کیا ہے۔ عارف مسعود نے اعلان کیا کہ وہ اس معاملے میں سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ نئی تشکیل سے وقف بورڈ کے انتظام میں شفافیت اور جواب دہی بڑھے گی۔ غیر مسلم رکن انیمیش بھارگو، جو پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی کے میڈیا پینلسٹ رہ چکے ہیں، نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ وقف املاک کے بہتر انتظام، وسائل کے مؤثر استعمال اور بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کیا جائے۔ منوج مالپانی، جو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ نئے نظام سے فیصلہ سازی زیادہ متوازن اور مؤثر ہوگی۔اس فیصلے کا بعض ہندو تنظیموں نے خیر مقدم بھی کیا ہے۔ شری ہندو اتسو سمیتی اور سنسکرتی بچاؤ منچ کے صدر چندر شیکھر تیواری نے کہا کہ غیر مسلم اراکین کی شمولیت سے وقف بورڈ کی کارکردگی میں شفافیت آئے گی اور وقف جائیدادوں کے انتظام میں جواب دہی مضبوط ہوگی۔ادھر وقف ترمیمی قانون 2025 کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی متعدد عرضیاں سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت سے یہ سوال بھی کیا تھا کہ اگر وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین شامل کیے جا سکتے ہیں تو کیا مستقبل میں مسلم افراد کو بھی ہندو مذہبی ٹرسٹوں اور اداروں کے انتظام میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ ایسے میں مدھیہ پردیش کے اس فیصلے نے وقف قانون اور مذہبی اداروں کے انتظام سے متعلق جاری قانونی اور سیاسی بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔