مغربی بنگال: غیر قانونی اور غیر منظور شدہ مدارس کا جائزہ لینے کے لیے 18 رکنی کمیٹی تشکیل

Wait 5 sec.

کولکاتہ: مغربی بنگال کے محکمہ برائے اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم نے ریاست کے 12 اضلاع میں چلنے والے غیر قانونی اور غیر منظور شدہ مدارس کا جائزہ لینے کے لیے 18 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ کمیٹی 15 جولائی سے متعلقہ اضلاع کا دورہ شروع کرے گی اور 21 جولائی تک اپنی تفصیلی رپورٹ محکمہ برائے اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم کو پیش کرے گی۔ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر محکمہ آئندہ انتظامی کارروائی کرے گا۔جن 12 اضلاع میں جائزہ لیا جائے گا، ان میں کوچ بہار، اتر دیناج پور، مالدہ، مرشد آباد، بیربھوم، مغربی مدنی پور، مشرقی مدنی پور، نادیہ، ہگلی، ہاوڑہ، شمالی 24 پرگنہ اور جنوبی 24 پرگنہ شامل ہیں۔جون کے پہلے ہفتے میں ریاستی حکومت نے ضلع مجسٹریٹوں (ڈی ایم) کو ہدایت جاری کی تھی کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں چلنے والے مدارس کی تفصیلی رپورٹ 5 جولائی تک ریاستی سکریٹریٹ نبانّا کو ارسال کریں۔سرکاری حکام کے مطابق ضلع مجسٹریٹوں سے موصول ہونے والی ابتدائی رپورٹوں کی بنیاد پر ان 12 اضلاع کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں بڑی تعداد میں غیر منظور شدہ مدارس کے چلائے جانے کا امکان ہے۔ اسی وجہ سے حتمی انتظامی فیصلہ لینے سے قبل ان اضلاع میں دوسری مرتبہ تفصیلی جائزہ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔مغربی بنگال: عصمت دری اور قتل کے ملزم کا پیٹ پیٹ کر قتل،11 سالہ بچی کی لاش بند بوری میں ہوئی تھی برآمد پہلے جاری کیے گئے ہدایت نامے میں ضلع مجسٹریٹوں سے ہر مدرسے کے قیام کی تاریخ، محکمہ برائے اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم میں اس کی رجسٹریشن، رجسٹریشن کی تفصیلات، طلبہ و طالبات کی تعداد، اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی معلومات، یہ کہ مدرسہ رہائشی ہے یا نہیں، اور وہاں پڑھائے جانے والے نصاب سے متعلق معلومات طلب کی گئی تھیں۔ممتا بنرجی کو بڑا دھچکا، قریبی ساتھی باغی دھڑے میں شاملاس سے قبل اسی سال مئی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مغربی بنگال کی نئی حکومت میں اقلیتی امور اور مدرسہ تعلیم کے وزیر کی حیثیت سے عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد کھدی رام ٹوڈو نے اعلان کیا تھا کہ ریاستی انتظامیہ غیر قانونی طور پر چلائے جا رہے مدارس کے خلاف کارروائی کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایک بار ایسے غیر قانونی طور پر چلائے جانے والے مدارس کی نشاندہی ہو جانے کے بعد انہیں بند کر دیا جائے گا، اور مدارس کے نام پر اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف بھی کارروائی کرتے ہوئے انہیں سزا دی جائے گی۔