سپریم کورٹ میں جمعہ کو سماعت کے دوران اس وقت غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی جب اپنے مقدمے کی خود پیروی کرنے والے ایک درخواست گزار نے عدالت میں نامناسب رویہ اختیار کرتے ہوئے بدزبانی کی، اپنے مقدمے سے متعلق فائل اچھال دی اور عدالتی نظم کو متاثر کیا۔ اس کے بعد عدالت میں موجود سکیورٹی اہلکاروں نے فوری مداخلت کرتے ہوئے درخواست گزار کو عدالت سے باہر نکال دیا، جس کے بعد کارروائی دوبارہ شروع کی گئی۔یہ واقعہ جسٹس کے وی وشواناتھن اور جسٹس آلوک ارادھے پر مشتمل بنچ کے سامنے پیش آیا، جہاں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ایک حکم کے خلاف دائر درخواست پر سماعت جاری تھی۔ اچانک پیش آنے والے اس واقعے کے باعث کچھ دیر کے لیے عدالتی کارروائی رک گئی جبکہ عدالت میں موجود وکلا، عدالتی افسران اور دیگر افراد حیران رہ گئے۔ اس واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سماعت شروع ہوتے ہی درخواست گزار نے لکھنؤ کے ایک اسسٹنٹ پولیس کمشنر اور ایک نجی کمپنی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس نے بنچ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ متعلقہ پولیس افسر کے خلاف پہلی معلوماتی رپورٹ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔اس پر جسٹس کے وی وشواناتھن نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا وہ عدالت کو حکم دے رہے ہیں؟ درخواست گزار نے جواب دیا کہ اس کی جانب سے تمام باتیں ریکارڈ پر موجود ہیں۔ اس کے فوراً بعد اس نے اپنے مقدمے سے متعلق کاغذات ہوا میں اچھال دیے، بلند آواز میں بدزبانی شروع کر دی اور چیف جسٹس کے بارے میں بھی قابل اعتراض ریمارکس کیے، جس سے عدالت میں کچھ دیر کے لیے افراتفری کی کیفیت پیدا ہو گئی۔صورتحال بگڑنے پر سکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے درخواست گزار کو قابو میں لیا اور عدالت سے باہر لے گئے۔ اس کے بعد بنچ نے دوبارہ سماعت شروع کی اور معمول کے مطابق کارروائی آگے بڑھائی۔یہ مقدمہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیے جانے سے متعلق تھا۔ عدالتی حلقوں کے مطابق سپریم کورٹ میں اس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ماضی میں سماعت کے دوران ایک وکیل نے اس وقت کے چیف جسٹس بی آر گوئی کی سربراہی والی بنچ کی جانب کوئی چیز پھینکنے کی کوشش کی تھی، جس سے عدالتی کارروائی متاثر ہوئی تھی۔بعد ازاں اس معاملے میں اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمنی نے متعلقہ وکیل کے خلاف فوجداری توہین عدالت کی کارروائی کی اجازت دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ وکیل کا طرز عمل توہین عدالت قانون 1971 کے تحت فوجداری توہین کے زمرے میں آتا ہے اور اس سے سپریم کورٹ کی وقعت اور اختیار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔بعد کی سماعت میں اس وقت کے چیف جسٹس بی آر گوئی نے کہا تھا کہ اگرچہ وہ اور ان کے ساتھی جج اس واقعے سے حیران ہوئے تھے، تاہم وہ اسے ماضی کا ایک باب سمجھ کر آگے بڑھ چکے ہیں، جبکہ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے اس رویے کو ناقابل معافی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کی ادارہ جاتی وقار کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔