تہران (12 جولائی 2026): ایران کا کہنا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز سے غیر قانونی راستہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ایران کے بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمنیہ نے الزام لگایا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز سے ایک ایسا راستہ بنانے کے لیے مداخلت کر رہا ہے جو غیر قانونی ہے، انھوں نے کہا ایسے اقدامات سے علاقے میں عدم تحفظ پیدا ہوگا۔بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمنیہ نے کہا امریکا کو ایم او یو کی شرائط کی پاسداری کرنی چاہیے، اور یاد رکھنا چاہیے کہ ایران کی مسلح افواج آبنائے ہرمز اور عوام کے حقوق کا مضبوطی سے دفاع کریں گی۔دوسری طرف ایرانی چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے ایکس پر لکھا کہ یک طرفہ معاہدوں کا دور اب ختم ہو گیا، ہم نے آپ سے کہا تھا یا اپنے وعدے پورے کریں یا وعدہ خلافی کی قیمت ادا کریں۔ حقیقت آپ کے سامنے ہے۔آبنائے ہرمز کو تاحکم ثانی بند کر دیا گیا، پاسداران انقلاب کا اعلانباقر قالیبف کی پوسٹ کے ساتھ ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کے آرٹیکل 5 کا امیج بھی شامل تھی، جسے 18 جون کے فریم ورک معاہدے کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ آرٹیکل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ہے، جب کہ امیج میں اس جملے کو نمایاں کیا گیا تھا: ’’اسلامی جمہوریہ ایران انتظامات کرے گا۔‘‘قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، جب کہ امریکا نے جنوبی ایران میں ریڈار، میزائل اور ڈرون تنصیبات پر حملوں کا تیسرا دور شروع کیا۔