ٹرمپ کے قریبی ساتھی سینیٹر لنزے گراہم کا اچانک انتقال

Wait 5 sec.

واشنگٹن (12 جولائی 2026): صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی امریکی سینیٹر لنزے گراہم اچانک انتقال کر گئے۔امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر لنزے گراہم 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے دفتر نے اتوار کی صبح ان کی وفات کی تصدیق کی۔دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ لنزے گراہم ہفتے کی شب ایک مختصر اور اچانک علالت کے باعث انتقال کر گئے۔ بیان میں کہا گیا کہ سینیٹر گراہم کا خاندان اس مشکل وقت میں دعاؤں کی اپیل کرتا ہے اور رازداری کا احترام کرنے کی درخواست کرتا ہے۔لنزے گراہم امریکی سینیٹ کی بجٹ کمیٹی کے چیئرمین تھے اور رواں برس نومبر میں سینیٹ کی پانچویں 6 سالہ مدت کے لیے دوبارہ انتخاب لڑنے کی تیاری کر رہے تھے۔ وہ سینیٹ کے نمایاں ارکان میں شمار ہوتے تھے اور دفاعی و خارجہ پالیسی کے معاملات پر ریپبلکن پارٹی کی اہم آواز سمجھے جاتے تھے۔سابق امیر قطر انتقال کر گئےاین بی سی نیوز کے مطابق پولیس اسکینر آڈیو سے معلوم ہوا کہ ہفتے کی شب گراہم کی کیپیٹل ہل میں واقع رہائش گاہ پر ’’دل کا دورہ پڑنے‘‘ کی اطلاع پر ہنگامی امدادی اہلکار پہنچے تھے، تاہم دل کا یہ دورہ گراہم کے لیے جان لیوا ثابت ہو گیا۔لنزے گراہم پہلی بار 2002 میں سینیٹر بنے، انھوں نے کبھی شادی نہیں کی، چند ہی دن قبل انھوں نے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی تھی، اور روسی توانائی خریدنے والے ملکوں کے خلاف قانون سازی کا اعلان کیا تھا۔مرحوم سینیٹر گراہم نے 1995 میں ایوانِ نمائندگان کے رکن کی حیثیت سے کانگریس میں سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا، جہاں وہ 2003 تک خدمات انجام دیتے رہے۔ جنوبی کیرولائنا کے قانون کے مطابق گورنر ہنری میک ماسٹر آئندہ سال 3 جنوری تک خالی ہونے والی سینیٹ نشست پر عبوری تقرری کریں گے۔جون میں لنزے گراہم نے ریپبلکن پرائمری انتخابات میں متعدد امیدواروں کو شکست دے کر پانچویں مدت کے لیے پارٹی کی نامزدگی حاصل کی تھی۔ ان کی وفات کے بعد جنوبی کیرولائنا کی ریپبلکن پارٹی کو نیا امیدوار نامزد کرنا ہوگا۔ان کا انتقال ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ان کے ساتھی ریپبلکن سینیٹر مچ میکونل گزشتہ ماہ دل کا دورہ پڑنے کی اطلاع پر اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد اب بھی زیر علاج ہیں۔ میکونل کے ترجمان کے مطابق وہ صحت یاب ہو رہے ہیں۔