کووڈ کی طرح اب کینسر کی بھی آسانی سے ہوگی تشخیص، آئی آئی ورچوئل ماڈل ہوا تیار

Wait 5 sec.

برسوں سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بارے میں بحث جوش و خروش اور خدشات کے درمیان جھولتی رہی ہے، لیکن اب محققین اس ٹیکنالوجی کو انسانیت کے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک، یعنی کینسر کے اسرار کو سمجھنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس کوشش کے مرکز میں دہلی کے ’اندرا پرستھ انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ (آئی آئی آئی ٹی) کے اختراع، تحقیق اور ترقی کے ایسوسی ایٹ ڈین دیبارکا سین گپتا ہیں، جو اے آئی اور جینومکس کی مدد سے کینسر کی جلد تشخیص، ٹیومر کے رویے کو سمجھنے اور ڈاکٹروں کو ہر مریض کے لیے موزوں علاج کے انتخاب میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ کینسر کو صرف ایک بیماری یا کسی ایک جین میں تبدیلی (میوٹیشن) کے طور پر دیکھنے کے بجائے، سین گپتا کی لیبارٹری اسے ایک پیچیدہ حیاتیاتی نظام کے طور پر دیکھتی ہے، جس کے مطالعے میں مالیکیولر بایولوجی، جینومکس، سنگل سیل تجزیہ، مائیکروفلوئیڈکس اور اے آئی کو یکجا کیا جاتا ہے۔سین گپتا نے بتایا کہ ان کا مقصد خون، ٹشوز یا وسیع حیاتیاتی ڈاٹا میں اکثر پوشیدہ رہنے والے کینسر کے معمولی اشاروں کی نشاندہی کرنا اور انہیں ایسی معلومات میں تبدیل کرنا ہے جنہیں ڈاکٹر عملی طور پر استعمال کر سکیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اے آئی محققین کو ہزاروں جینز، مختلف اقسام کے خلیات اور طبی ریکارڈز کا بیک وقت تجزیہ کرنے کی سہولت دیتا ہے، جس سے ایسے نمونے (پیٹرنز) سامنے آتے ہیں جن کی دستی طور پر شناخت تقریباً ناممکن ہوتی ہے۔اے آئی محققین کو ایسے پیٹرنز دریافت کرنے میں مدد دیتا ہے جنہیں روایتی طریقے سے دیکھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ٹیم کی اہم کامیابیوں میں پلیٹ لیٹ آر این اے پر مبنی 11 جینز والا خون کا ایک ٹیسٹ تیار کرنا شامل ہے، جو مستقبل میں مختلف اقسام کے کینسر کی کم لاگت اسکریننگ کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ مہنگی جینوم سیکوینسنگ ٹیکنالوجی کے برعکس، یہ ٹیسٹ آر ٹی-کیو پی سی آر مشینوں پر کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جو کووڈ-19 وبا کے دوران ہندوستان میں بڑے پیمانے پر استعمال کی گئی تھیں۔ سین گپتا نے بتایا کہ اس قسم کا ٹیسٹ انہی کیو پی سی آر سے لیس مالیکیولر لیبارٹریوں میں کیا جا سکتا ہے، جن کی تعداد کووڈ ٹیسٹنگ کے دوران نمایاں طور پر بڑھی تھی۔ انہوں نے مطلع کیا کہ ان کی ٹیم ٹرپل نیگیٹو بریسٹ کینسر میں گردش کرنے والے ٹیومر خلیات کی شناخت پر بھی کام کر رہی ہے، جہاں اصل چیلنج خون میں موجود نہایت نایاب کینسر خلیات کو تلاش کرنا ہوتا ہے۔سین گپتا نے کہا کہ یہ تحقیق اس لیے بھی نہایت دلچسپ ہے کیونکہ اس میں مالیکیولر بایولوجی، مائیکروفلوئیڈکس اور اے آئی کو یکجا کیا گیا ہے۔ تاہم صرف کینسر خلیات کی شناخت ہی کافی نہیں۔ محققین ایسے اے آئی ماڈلز پر بھی کام کر رہے ہیں جو یہ پیش گوئی کر سکیں کہ مختلف ادویات مختلف اقسام کے کینسر پر کس طرح اثر انداز ہوں گی۔ اس سے علاج کے روایتی "ٹرائل اینڈ ایرر" طریقۂ کار سے آگے بڑھنے میں مدد مل سکتی ہے۔’جینیسلکو‘ نامی ایک اسٹارٹ اپ کے ذریعے یہ ٹیم ایک ’ایجنٹک ڈیجیٹل ٹوئن‘ تیار کر رہی ہے۔ یہ اے آئی پر مبنی ایک ورچوئل ماڈل ہے، جو مریض کی مالیکیولر پروفائل، طبی تاریخ، ٹیومر کی حیاتیات، علاج سے متعلق رہنما اصولوں اور سائنسی معلومات کو یکجا کرتا ہے تاکہ کینسر کے ماہرین ممکنہ علاج کے مختلف متبادل کا بہتر اندازہ لگا سکیں۔