دہلی میں فضائی آلودگی کی حقیقی سطح گزشتہ سال سے زیادہ، فوری اقدامات کرے حکومت: اجے ماکن

Wait 5 sec.

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی کے معاملے پر ایک بار پھر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ شہر میں فضائی معیار میں جو بہتری یا تبدیلی دکھائی دیتی ہے، اس پر موسمی حالات کا نمایاں اثر ہے، لیکن اگر ان موسمی اثرات کو الگ کر کے تجزیہ کیا جائے تو حقیقی فضائی آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال فضائی آلودگی پر قابو پانے میں حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کی عکاسی کرتی ہے۔اجے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو اور تحریری بیان میں کہا کہ ان کا تازہ تجزیہ 6 جولائی صبح 10 بجے سے 7 جولائی صبح 10 بجے تک کے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نتائج کا موازنہ گزشتہ سال 30 جون سے 14 جولائی کے اوسط اعداد و شمار سے کیا گیا تاکہ کسی ایک دن کے موسمی اتار چڑھاؤ سے نتائج متاثر نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے فضائی معیار اشاریے کے مطابق دہلی کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 122 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ شہر میں سب سے زیادہ خراب فضائی معیار جہانگیر پوری میں 205 درج کیا گیا، جو ’خراب‘ زمرے میں شامل ہے۔موسمی اثرات الگ کرنے پر دہلی میں پی ایم 10 گزشتہ سال سے 14 فیصد زیادہ، سخت اقدامات کرے حکومت: اجے ماکن اجے ماکن کے مطابق گزشتہ سال اسی مدت کے دوران 6.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ اس بار صرف 1.4 ملی میٹر بارش ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کم بارش کی وجہ سے فضائی آلودگی کے ذرات مناسب طور پر صاف نہیں ہو سکے۔ اسی طرح ہوا کی رفتار گزشتہ سال کے 4.7 کلومیٹر فی گھنٹہ کے مقابلے میں بڑھ کر 7.6 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو گئی، جس سے تعمیراتی مقامات اور سڑکوں کی گرد و غبار فضا میں زیادہ پھیل گئی اور پی ایم 10 کی سطح میں اضافہ ہوا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ موسم کے اثرات الگ کرکے تجزیہ کرنے پر فضائی معیار اشاریہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 12 پوائنٹس زیادہ بنتا ہے، جبکہ پی ایم 10 کی سطح 16 فیصد اور پی ایم 2.5 کی سطح 10 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ ان کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقی فضائی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے اور موجودہ صورتحال کو صرف موسمی عوامل کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔دہلی میں آلودگی میں بہتری موسمی اثرات کا نتیجہ، حقیقی آلودگی اب بھی گزشتہ سال سے زیادہ: اجے ماکناجے ماکن نے کہا کہ اس درجے کی فضائی آلودگی دمے اور دل کے مریضوں، بچوں اور بزرگوں کے لیے صحت کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعمیراتی سرگرمیوں اور سڑکوں کی دھول جیسے پی ایم 10 کے اہم ذرائع کے خلاف فوری سخت کارروائی کی جائے، جہانگیر پوری جیسے زیادہ متاثرہ علاقوں میں مقامی سطح پر آلودگی کے ذرائع پر قابو پایا جائے اور صحت سے متعلق بروقت انتباہ جاری کیا جائے۔انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ فضائی معیار کے اہداف کو عالمی ادارۂ صحت کے معیارات کے مطابق مزید سخت بنایا جائے تاکہ دہلی کے شہریوں کو بہتر اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ اجے ماکن نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ’’سانس لینا بنیادی حق ہے، سہولت نہیں‘‘ اور حکومت سے فضائی آلودگی پر مؤثر اور جوابدہ پالیسی نافذ کرنے کی اپیل کی۔