یو اے ای : کن ملازمین کی تنخواہوں میں 92 فیصد تک اضافہ؟

Wait 5 sec.

دبئی : متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سیکھنے والوں کی چاندی ہوگئی، ماہرین کی مانگ میں اضافے کے سبب 92 فیصد تک تنخواہیں بڑھنے لگیں۔متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں انقلاب آرہا ہے، پرامپٹ انجینئرنگ اور دیگر تکنیکی شعبوں کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، مصنوعی ذہانت کی مہارت ملازم کو مالا مال کردے گی۔گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق اے آئی کی ترقی کے باوجود، 2030 تک یو اے ای اور سعودی عرب میں انسانی افرادی قوت کی مانگ میں مجموعی طور پر 11 فیصد اضافے کا ریکارڈ رجحان متوقع ہے۔عالمی آڈٹ اور مشاورتی ادارے پی ڈبلیو سی کی 2026 گلوبل اے آئی جابز بیرو میٹر کی رپورٹ کے مطابق اے آئی مہارت رکھنے والے ملازمین بعض شعبوں میں دیگر کارکنوں کے مقابلے میں 92 فیصد تک زیادہ تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران متحدہ عرب امارات میں اے آئی مہارتوں کی شرط رکھنے والی ملازمتوں کا تناسب ایک فیصد سے بڑھ کر 3.2 فیصد تک پہنچ گیا، جس کے نتیجے میں ملک عالمی درجہ بندی میں 21ویں سے 13ویں نمبر پر آگیا۔اس عرصے کے دوران اے آئی سے متعلق ملازمتوں کے اشتہارات کی تعداد تقریباً 4 ہزار 600 سے بڑھ کر 12 ہزار 200 ہوگئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب ادارے صرف اے آئی سسٹمز تیار کرنے والے ماہرین نہیں بلکہ ایسے ملازمین بھی تلاش کر رہے ہیں جو روزمرہ کے کاموں میں مصنوعی ذہانت کے جدید ٹولز مؤثر انداز میں استعمال کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ فنانس، مارکیٹنگ، انسانی وسائل (ایچ آر)، کنسلٹنگ اور دیگر دفتری شعبوں میں بھی اے آئی مہارت رکھنے والے افراد کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اے آئی ملازمتیں ختم کرنے کے بجائے کام کرنے کے انداز کو تبدیل کر رہی ہے۔ عالمی سطح پر وہ ادارے جہاں مصنوعی ذہانت کا استعمال زیادہ ہے، وہاں پیداواری صلاحیت میں 40 فیصد زیادہ اضافہ دیکھا گیا، جبکہ ملازمین کی تعداد اور تنخواہوں میں بھی نسبتاً بہتر ترقی ریکارڈ کی گئی۔