نئی دہلی: ای۔20 یعنی 20 فیصد ایتھنول ملا پٹرول کے استعمال پر جاری بحث کے درمیان عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے ملک کی 29 آٹو ساز کمپنیوں کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ وہ پرانی پٹرول گاڑیوں میں اس ایندھن کے استعمال کے بارے میں اپنا واضح اور تحریری موقف عوام کے سامنے رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ صارفین کے ذہنوں میں موجود شکوک و شبہات دور کرنا کمپنیوں کی ذمہ داری ہے۔اروند کیجریوال نے کمپنیوں سے ایک ہفتے کے اندر یہ بتانے کو کہا ہے کہ آیا 2023 سے پہلے تیار ہونے والی پٹرول گاڑیوں میں ای۔20 پٹرول کا استعمال مکمل طور پر محفوظ ہے یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ اگر اس ایندھن کے استعمال سے گاڑی کی مائلیج میں کمی آتی ہے یا انجن اور دیگر اہم پرزوں کو نقصان پہنچتا ہے تو کیا کمپنیاں متاثرہ صارفین کو معاوضہ دینے کے لیے تیار ہوں گی۔انہوں نے بتایا کہ 29 کمپنیوں میں سے تین بڑی آٹو کمپنیاں، ماروتی سوزوکی، ٹویوٹا کرلوسکر موٹر اور ہیرو موٹوکارپ کو الگ سے خطوط بھیجے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ان کمپنیوں کے نمائندوں نے 4 جولائی کو ہونے والی ایک سرکاری پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پرانی گاڑیوں میں ای۔20 پٹرول کا استعمال محفوظ ہے اور اس سے صرف چار سے پانچ فیصد تک مائلیج کم ہوتی ہے، جبکہ گاڑی کو کوئی تکنیکی نقصان نہیں پہنچتا۔کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ ان ہی کمپنیوں کی سرکاری مالکانہ ہدایات پر مشتمل کتابچوں میں 2023 سے پہلے تیار ہونے والی متعدد گاڑیوں کے لیے 10 فیصد سے زیادہ ایتھنول ملا پٹرول استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کمپنیوں کے سرکاری کتابچے اور عوامی بیانات میں فرق ہے تو اس سے صارفین میں الجھن پیدا ہونا فطری ہے، اس لیے کمپنیوں کو تحریری طور پر اصل صورت حال واضح کرنی چاہیے۔انہوں نے تینوں کمپنیوں سے یہ بھی سوال کیا کہ اگر ای۔20 پٹرول استعمال کرنے کے بعد کسی گاڑی کی مائلیج پانچ سے دس فیصد سے زیادہ کم ہو جائے یا انجن یا کسی دوسرے اہم حصے کو نقصان پہنچے تو کیا کمپنی متعلقہ صارف کو مالی معاوضہ دینے کی ذمہ داری قبول کرے گی۔باقی 26 آٹو ساز کمپنیوں سے بھی انہوں نے دریافت کیا ہے کہ آیا ان کی پرانی پٹرول گاڑیوں میں ای۔20 پٹرول استعمال کیا جا سکتا ہے، اس سے اوسطاً کتنی مائلیج کم ہوگی، کیا اس کے انجن یا دیگر پرزوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، اور نقصان کی صورت میں کیا کمپنی صارف کو معاوضہ فراہم کرے گی۔اروند کیجریوال نے کہا کہ یہ محض ایک تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ کروڑوں گاڑی مالکان اور صارفین کے مفاد سے جڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام کمپنیاں ایک ہفتے کے اندر اپنا باضابطہ تحریری جواب دیں گی تاکہ عوام کے درمیان پائی جانے والی غیر یقینی کیفیت ختم ہو سکے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ جمعرات کو دہلی کے بعض پٹرول پمپوں، گاڑیوں کے سروس مراکز اور مکینکوں سے ملاقات کرکے ای۔20 پٹرول کے بارے میں صارفین اور ماہرین کی آرا بھی جانیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ای۔20 پٹرول کو محفوظ قرار دے رہی ہے، تاہم عوام کے عملی تجربات اور سائنسی حقائق کو بھی یکساں اہمیت دی جانی چاہیے۔