مہاراشٹر کے ضلع رائے گڑھ واقع ایچ پی سی ایل پاتال گنگا ایل پی جی بوٹلنگ پلانٹ میں شدید بارش کے باعث پانی بھر گیا۔ اس وجہ سے تقریباً 3 ہزار ایل پی جی سلنڈر، جن میں بھرے ہوئے اور خالی دونوں قسم کے سلنڈر شامل تھے، پاتال گنگا ندی میں بہہ گئے۔ اس واقعہ کے بعد انتظامیہ نے مقامی لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ ندی میں بہہ کر آنے والے کسی بھی سلنڈر کو ہاتھ نہ لگائیں۔बाढ़ में 3 हजार LPG सिलेंडर बहेमहाराष्ट्र के रायगढ़ में बारिश के बाद 3 हजार LPG सिलेंडर पातालगंगा नदी में बह गए. पनवेल के LPG प्लांट में बाढ़ का पानी घुसने के बाद सिलेंडर बह गए. प्रशासन ने लोगों से अपील की है कि कहीं सिलेंडर मिले तो उसे न छुएं और न ही घर ले जाएं.#NewsLeader |… pic.twitter.com/L6jWeN2MPV— News Leader (@NewsLeaderLive) July 9, 2026رائے گڑھ کے کلکٹر کشور جاولے نے لوگوں سے اپیل کی کہ سمندر کے ساحل یا ندی کے کنارے بہہ کر آنے والے کسی بھی سلنڈر کو نہ اٹھائیں اور نہ ہی اپنے گھر لے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی کہ ندی میں بہہ کر آنے والے سلنڈروں میں گیس موجود ہے یا وہ محفوظ حالت میں ہیں۔ تجسس یا استعمال کی غرض سے انہیں اٹھانا، کھولنا یا گھر لے جانا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔پاتال گنگا ندی میں بہتے ہوئے ایل پی جی سلنڈر کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہی ہیں۔ ان ویڈیوز پر مختلف قسم کے رد عمل بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ’ایکس‘ پر ونود پٹیل نامی ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’پشپا 3.0۔ مہاراشٹر کے کولہاپور میں سیلاب کا پانی گیس سلنڈروں کے گودام تک پہنچ گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایچ پی سیل ایل کمپنی کے ہزاروں سلنڈر پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ گئے۔ تقریباً 3 ماہ قبل جن غریبوں کو لوٹا گیا تھا، آج وہی گودام سیلاب میں بہہ گیا۔‘‘ ایک دیگر صارف نے لکھا ہے کہ ’’ایچ پی سی ایل پلانٹ میں سیلاب آنے کے بعد بھرے ہوئے اور خالی ملا کر تقریباً 3 ہزار ایل پی جی سلنڈر پاتال گنگا ندی میں بہہ رہے ہیں۔ یہ صرف ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ عوامی بنیادی ڈھانچے اور حفاظتی منصوبہ بندی میں نظام کی ناکامی بھی ہے۔ ہائی پریشر والے گیس سلنڈر بہتے ہوئے ندی کے نشیبی علاقوں کے دیہات تک پہنچ رہے ہیں۔صارف نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’مضبوط بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کے بجائے انتظامیہ صرف لوگوں سے کہہ رہی ہے کہ ’انہیں ہاتھ نہ لگائیں۔‘ ایک بڑی سرکاری کمپنی کی سنگین لاپروائی سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے عام لوگوں کو کیوں چھوڑ دیا گیا ہے؟ یہ عوامی سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔‘‘ مزید ایک صارف نے اس ویڈیو کے ساتھ لکھا ہے کہ ’’یہ منظر بالکل فلم ’پشپا‘ جیسا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں چندن کی لکڑی نہیں بلکہ ایل پی جی سلنڈر ہیں۔ مہاراشٹر کے رائے گڑھ میں شدید بارش کے باعث چوانے گاؤں میں واقع پلانٹ میں پانی کا تیز بہاؤ آ گیا، جس سے ایچ پی سی ایل کے سینکڑوں خالی ایل پی جی سلنڈر بہہ گئے۔‘‘