انقرہ (09 جولائی 2026): نیٹو سربراہان نے ترکیہ میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں 50 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی نئی دفاعی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔روئٹرز کے مطابق نیٹو کے رکن ممالک کی دفاعی صنعت سے وابستہ کمپنیوں نے اس ہفتے انقرہ میں ہونے والے ایک صنعتی فورم میں شرکت کی۔ اس موقع پر حکام نے 50 ارب ڈالر سے زائد کے دفاعی اور صنعتی معاہدوں کی تفصیلات پیش کیں اور کہا کہ اتحادی ممالک فوجی اخراجات میں اضافے کے اپنے عزم پر قائم ہیں۔فورم کے اعلامیے کے مطابق نئی سرمایہ کاری کا مقصد نیٹو کی دفاعی صلاحیت، صنعتی بنیاد اور مجموعی دفاعی استعداد کو مزید مضبوط بنانا ہے، اعلامیے میں کہا گیا کہ روس سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے دفاعی سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔فرانسیسی اخبار لا مونڈ نے لکھا کہ ’’یورپ اور امریکا کی دفاعی صنعتوں کے لیے منگل، 7 جولائی کو انقرہ میں شروع ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کا پہلا دن معاہدوں کی بھرمار کے باعث گویا عید کا دن ثابت ہوا۔‘‘امریکا اب بھی نہیں سمجھا کہ دھونس اور وعدہ خلافی کی قیمت چکانا پڑتی ہے، قالیبافاخبار کے مطابق ’’نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے اعلان کیا کہ فوجی سازوسامان کی خریداری کے لیے کئی دس ارب ڈالر مالیت کے معاہدے کیے جا رہے ہیں۔ ان معاہدوں میں دفاعی صنعت کے تقریباً تمام شعبے شامل ہیں۔‘‘نیٹو کے ایک عہدیدار کے مطابق، گزشتہ چند مہینوں کے دوران اتحادی ممالک کی جانب سے کیے گئے تمام معاہدوں اور خریداری کے آرڈرز کی مجموعی مالیت کم از کم 50 ارب ڈالر (43 ارب یورو) بنتی ہے۔ مارک روٹے بدھ کے روز اتحادی رہنماؤں کے اجتماع کے موقع پر اس کی درست مالیت کا اعلان کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اس بڑے ہندسے کا ایک واضح سیاسی مقصد بھی ہے، یعنی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو متاثر کرنا، جو منگل کی سہ پہر ترکی کے دارالحکومت انقرہ پہنچے، اور انھیں یہ دکھانا کہ یورپ اور کینیڈا دفاع پر بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔مارک روٹے نے کہا ’’ہم نے 2025 میں دی ہیگ میں کیے گئے اس عزم پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے کہ ہم اپنے دفاع پر زیادہ سرمایہ کاری کریں گے۔ اس سے ہماری معیشتوں کو فروغ ملے گا، جدت کو تقویت ملے گی، اور بحرِ اوقیانوس کے دونوں جانب لاکھوں ملازمتوں کی حمایت ہوگی۔‘‘نیٹو کے مطابق، ان نئے معاہدوں میں سے 43 ارب یورو سے زائد کا نصف سے زیادہ حصہ یورپ کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام پر سرمایہ کاری سے متعلق ہے۔ توقع ہے کہ بیلجیئم بدھ کے روز فضائی دفاعی نظام کی خریداری کے لیے 3 ارب یورو سے زائد مالیت کے معاہدوں پر دستخط کر دے گا۔