واشنگٹن (09 جولائی 2026): امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران نے تقریباً ایک ہفتے تک معاہدے کی پاسداری کی اور رویے میں بہتری لایا لیکن اب وہ دوبارہ بحری جہازوں کو نشانہ بنانے لگا ہے۔ریاست وسکونسن کے شہر ملواکی کے دورے کے دوران بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا ایران نے بحری جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن 24 گھنٹے پہلے جو کچھ ہوا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران دوبارہ جہازوں پر حملے کر رہا ہے۔ترک نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق وینس نے کہا امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی جب تک ایران بحری جہازوں پر حملے بند نہیں کرتا، ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرے یا پھر وہی ہوگا جو گزشتہ رات پیش آیا۔امریکا اب بھی نہیں سمجھا کہ دھونس اور وعدہ خلافی کی قیمت چکانا پڑتی ہے، قالیبافجے ڈی وینس نے کہا ایران نے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کی تو امریکی فوجی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا، ایران کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ٹرمپ کہہ چکے ہیں آبنائے ہرمز کھلی رہے گی، معاہدے میں ہے کہ ایران بحری جہازوں پر حملہ کرے گا تو ہم جواب دیں گے، ایران نے بحری جہازوں پر حملہ کیا تو پہلے سے سخت ردعمل دیں گے۔وینس کا کہنا تھا کہ امریکا نے اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر اس شرط کے تحت اتفاق کیا تھا کہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ میں جہازوں کو نشانہ بنانا بند کرے گا، ہم نے بنیادی طور پر یہ معاہدہ کیا تھا کہ اگر آپ جہازوں پر فائرنگ بند کریں گے تو ہم اپنی ناکہ بندی ختم کر دیں گے، لیکن اگر آپ جہازوں پر حملہ کریں گے تو ہم بھرپور جواب دیں گے، اور پہلے سے کہیں زیادہ سخت جواب دیں گے۔