ملک میں غذائی مصنوعات پر کیے جا رہے دعووں اور لیبلنگ کے حوالے سے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ ایف ایس ایس اے آئی نے لوٹے انڈیا، فرنس این پیٹلس اور کوبیرا فوڈس کو نوٹس جاری کر 7 دنوں کے اندر جواب طلب کیا ہے۔ ریگولیٹری ادارے کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں کے کچھ غذائی مصنوعات پر ایسے دعوے کیے گئے ہیں جو صارفین کو گمراہ کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی کئی معاملات میں لیبلنگ کے قوانین پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ایف ایس ایس اے آئی نے کہا کہ اگر کمپنیوں کی جانب سے تشفی بخش جواب نہیں ملا تو فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرز ایکٹ 2006 کے تحت آگے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ادارے کے مطابق یہ کارروائی صارفین کے مفادات کے تحفظ اور غذائی مصنوعات کی درست معلومات لوگوں تک پہنچانے کے مقصد سے کی جا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایف ایس ایس اے آئی مسلسل ایسے معاملات میں ازخود نوٹس اور صارفین کی شکایتوں کی بنیاد پر کارروائی کر رہا ہے۔ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق لوٹے انڈیا نے کئی مصنوعات پر قوانین پر عمل درآمد نہیں کیا۔ کمپنی نے پرانے نام والے پری-پرنٹڈ لیبل بغیر اجازت کے استعمال کیے۔ اس کے علاوہ ’لوٹے چاکو پائے‘ کے کچھ مصنوعات پر 100 فیصد ’ویج‘ ہونے کا دعویٰ کیا گیا، جسے گمراہ کن مانا گیا۔ پی ای پی ای آر او بسکٹ اسٹکس پر مقررہ فارمیٹ میں غذائی اجزاء سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ لالی بلس لالی پاپ میں وٹامن کی سطح سے جڑے قوانین کی خلاف ورزی پائی گئی۔ ساتھ ہی مصنوعات میں پھل نہ ہونے کے باوجود پیکیجنگ سے ایسا تاثر دیا گیا کہ ان میں پھل موجود ہے۔ اس کے علاوہ پیک کے سامنے لازمی ڈسکلیمر بھی نہیں دیا گیا۔کوبیرا فوڈس کے سافٹ اینڈ فریش کریم بن پائن ایپل مصنوعات پر پیک کے سامنے 100 فیصد قدرتی اور نو پریزرویٹوز اور نو کلرز اینڈ فلیورز جیسے دعوے کیے گئے تھے۔ لیکن مصنوعات کے لیبل میں پریزرویٹو، سنتھیٹک رنگ اور فلیورنگ مادوں کا ذکر بھی پایا گیا۔ ایف ایس ایس اے آئی کا کہنا ہے کہ ایسے میں قدرتی، تازے اور خالص جیسے دعوے قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ دوسری جانب فرنس این پیٹلس کے روسٹیڈ المانڈ چاکلیٹ پر پریمیم چاکلیٹ لکھا گیا تھا، جبکہ اس میں ہائیڈروجنیٹڈ فیٹ کا استعمال پایا گیا۔ اس کے علاوہ تجویز کردہ روزانہ غذائی مقدار (آر ڈی اے) اور اجزاء کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے میں بھی کمی پائی گئی۔فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا کا کہنا ہے کہ صارفین کو درست اور شفاف جانکاری ملنا ضروری ہے۔ اگر کسی پروڈکٹ پر کیے گئے دعوے اور اس کے اصل اجزء میں فرق ہوگا تو اس سے صارفین گمراہ ہو سکتے ہیں۔ حال ہی میں ریگولیٹری ادارے نے فریش پنیر جیسے دعوے کو لے کر بھی ایک دیگر کمپنی کو نوٹس جاری کیا تھا۔ ایف ایس ایس اے آئی اب سوشل میڈیا کے ذریعہ بھی اپنی کارروائی کی معلومات شیئر کر رہا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ وہ صارفین کی شکایات اور ازخود نوٹس کی بنیاد پر ایسے معاملات کی تحقیقات جاری رکھے گا، تاکہ مارکیٹ میں فروخت ہونے والی غذائی مصنوعات مقررہ معیارات پر پوری اتریں۔