امریکا نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کردیں

Wait 5 sec.

واشنگٹن (11 جولائی 2026) : امریکا نے ایران پر مزید نئی اقتصادی پابندیاں عائد کردیں، جن میں کاروباری شخصیت، کرنسی ایکسچینج ہاؤسز اور متعدد کمپنیاں شامل ہیں جبکہ غیر ملکی زرِمبادلہ تک رسائی محدود کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔،غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران پر دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے اس کیخلاف نئی اور وسیع پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کی ایک ممتاز کاروباری شخصیت، متعدد کرنسی ایکسچینج ہاؤسز اور ان سے منسلک کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول کے مطابق پابندیوں کا ہدف دبئی میں مقیم ایرانی کاروباری شخصیت علی انصاری ہیں، جن پر الزام ہے کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات کے لیے عالمی مالیاتی نیٹ ورک چلا رہے تھے۔امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ علی انصاری نے سرکاری دولت کو بیرونِ ملک جائیدادوں اور تجارتی اثاثوں میں منتقل کیا۔امریکی حکام کے مطابق علی انصاری نے جرمنی، برطانیہ، اسپین، قبرص، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں جائیدادوں اور کاروباری اثاثوں کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا، جسے ایرانی حکمران اشرافیہ اور اسلامی انقلابی گارڈ کور کے مالی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔امریکا نے اس کے ساتھ ایران کے تین کرنسی ایکسچینج ہاؤسز، محمد دربانی اینڈ پارٹنرز، لواسانی اینڈ پارٹنرز اور محسن خندان اینڈ پارٹنرز، ان کے منتظمین اور ان سے وابستہ متعدد فرنٹ کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کردی ہیں۔امریکی حکام کا الزام ہے کہ ان اداروں نے پابندیوں کا شکار ایرانی بینکوں کے لیے کروڑوں ڈالر کے غیر ملکی زرِمبادلہ کا انتظام کیا اور ہانگ کانگ، متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک میں قائم شیل کمپنیوں کے ذریعے بین الاقوامی مالیاتی لین دین کو خفیہ رکھا۔محکمہ خزانہ کے مطابق علی انصاری نے اپنی دولت کا بڑا حصہ آیندہ بینک کے ذریعے حاصل کیا، جو 2025 میں اربوں ڈالر کے قرضوں کے باعث منہدم ہو گیا تھا۔ ان سے منسلک بعض اثاثے اسمارٹ گلوبل لمیٹڈ نامی ہولڈنگ کمپنی کے ذریعے رکھے گئے تھے، تاہم امریکی حکام نے اس کمپنی سے متعلق بعض لین دین کو سمیٹنے کے لیے محدود اجازت بھی جاری کی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے کہا کہ نئی پابندیوں کا مقصد ایران کی حکمران اشرافیہ کی مالی شہ رگ کاٹنا، غیر ملکی زرِمبادلہ تک اس کی رسائی محدود کرنا اور عالمی مالیاتی نظام میں اس کی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کے لیے غیر قانونی مالی اور تجارتی سرگرمیوں میں معاونت کرنے والے افراد، کمپنیوں اور مالیاتی اداروں، بشمول غیر ملکی اداروں، کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔یہ پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب چند روز قبل ٹرمپ انتظامیہ نے جنگ بندی سے متعلق گزشتہ ماہ جاری کیے گئے ایک عمومی لائسنس کو بھی منسوخ کر دیا تھا، جس کے تحت ایران کو محدود پیمانے پر خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور پیٹروکیمیکل مصنوعات فروخت کرنے کی عارضی اجازت دی گئی تھی۔