میڈرڈ : اسپین کے جنوبی صوبے اندلس میں جنگلاتی آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک، 8 زخمی جبکہ 23 افراد لاپتہ ہیںماہرین کے مطابق شدید گرمی، تیز ہوائیں، خشک نباتات اور دیہی علاقوں میں آبادی کی مسلسل کمی نے اس سانحے کو مزید سنگین بنا دیا۔گارڈین کی رپورٹ کے مطابق آگ جمعرات کو صوبہ المیریا کے علاقے لوس گیاردوس میں بھڑکی اور دیکھتے ہی دیکھتے تقریباً 3 ہزار 800 ہیکٹر رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، کئی افراد جان بچانے کی کوشش میں اپنی گاڑیوں سمیت آگ میں پھنس گئے۔حکام کا ابتدائی خیال ہے کہ آگ ممکنہ طور پر بجلی کی ہائی وولٹیج لائن گرنے سے بھڑکی، تاہم اس کی حتمی تحقیقات جاری ہیں۔اسپینش حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک ہسپانوی شہری شامل ہے جبکہ دیگر بظاہر غیر ملکی شہری ہیں جنہوں نے محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی حکام کی ہدایات پر عمل نہیں کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ موسمِ سرما اور بہار میں ہونے والی زیادہ بارشوں سے جنگلات اور جھاڑیاں گھنی ہوگئیں، جبکہ اس کے بعد آنے والی شدید گرمی نے اسی سبزے کو انتہائی آتش گیر ایندھن میں تبدیل کر دیا۔ تیز ہواؤں نے آگ کو چند ہی لمحوں میں آبادی کی جانب دھکیل دیا، جس کے باعث امدادی کارروائیاں شدید متاثر ہوئیں۔امپیریل کالج لندن کے فائر سائنسدان گیلرمو رین کے مطابق خشک نباتات، تیز ہوائیں اور غیر تیار آبادی نے آگ کو انتہائی تیزی سے گھروں تک پہنچایا، جبکہ فائر فائٹرز کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔یورپی محکمہ جنگلات کے مطابق کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اسپین میں جنگلاتی آگ معمول کے مقابلے میں دوگنے رقبے کو جلاچکی ہے، جبکہ آگ لگنے کے واقعات کی تعداد بھی گزشتہ برسوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی یورپ گزشتہ دو ماہ کے دوران تیسری شدید گرمی کی لہر سے گزر رہا ہے اور درجہ حرارت کئی علاقوں میں 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے، جس سے جنگلات انتہائی خشک اور آتش گیر ہوگئے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف آگ کے شعلے ہی نہیں بلکہ اس سے اٹھنے والا زہریلا دھواں بھی ایک خاموش قاتل ثابت ہوتا ہے۔ 2024 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جنگلاتی آگ سے پیدا ہونے والی آلودہ فضا ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 15 لاکھ 30 ہزار افراد کی قبل از وقت اموات کا سبب بنتی ہے۔ماہرین کے مطابق اسپین کے دیہی علاقوں سے نوجوانوں کی شہروں کی طرف نقل مکانی کے باعث کھیت اور جنگلات غیر آباد ہو رہے ہیں، جس سے جھاڑیاں اور خشک پودے بے تحاشا بڑھ رہے ہیں۔ یہی اضافی نباتات مستقبل میں مزید بڑے اور خطرناک جنگلاتی آتش زدگی کے امکانات بڑھا رہی ہیں۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور زمین کے ناقص انتظام جیسے عوامل کے باعث جنوبی یورپ میں جنگلاتی آگ کا موسم پہلے سے زیادہ طویل، شدید اور تباہ کن ہوتا جا رہا ہے، اور اگر فوری مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔