تمل ناڈو: کرور متاثرین کو معاوضہ تقسیم کرنے سے وزیر اعلیٰ وجے کو روکنے والی ڈی ایم کے کی عرضی سپریم کورٹ سے خارج

Wait 5 sec.

سپریم کورٹ نے ایک معاملہ پر سماعت کرتے ہوئے ڈی ایم کے کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ عدالت کا کام کسی وزیر اعلیٰ کے دورے کو کنٹرول کرنا نہیں ہے۔ جسٹس کے وی وشوناتھ اور جسٹس آلوک ارادھے کی بنچ نے کہا کہ کیا آپ لوگ چاہتے ہیں کہ عدالت اس بات کا فیصلہ کرے کہ وزیر اعلیٰ کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں؟ دراصل ڈی ایم کے نے موجودہ ٹی وی کے (تملگا ویتری کژگم) حکومت کے خلاف عرضی داخل کی تھی۔ ڈی ایم کے نے اپنی عرضی میں کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کرور کا دورہ کر بھگدڑ کے متاثرین سے مل کر گواہوں کو متاثرہ خاندانوں سے مل کر گواہوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔Karur stampede: DMK withdraws plea against CM Vijay, TVK after Supreme Court says.....report by @RitwikinCourt https://t.co/ERCyvS44Gr— Bar and Bench (@barandbench) July 7, 2026سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم کسی بھی وزیر اعلیٰ کی سرگرمیوں کا تعین نہیں کریں گے۔ ججوں نے ڈی ایم کے کے وکیل سے کہا کہ وہ عدالت کو سیاسی لڑائی کا میدان نہ بنائیں۔ اگر حکمراں جماعت ٹی وی کے کے لیڈر حادثے کے متعلق بیان دے رہے ہیں تو ڈی ایم کے بھی اس کے جواب میں بیان دے سکتی ہے۔ یہ لڑائی عدالت کے باہر لڑی جانی چاہیے۔ڈی ایم کے نے اپنی عرضی میں یہ بھی کہا تھا کہ گزشتہ سال ٹی وی کے کی ریلی میں ہوئے حادثے کی تحقیقات کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ وجے 41 لوگوں کی موت والے اس حادثے کے متاثرین کو 10-10 لاکھ روپے معاوضہ اور سرکاری نوکری دینے کے لیے کرور جانے والے ہیں۔ ڈی ایم کے نے اسی کی مخالفت کی تھی۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں ٹی وی کے کی کرور میں ایک ریلی ہوئی تھی، جس میں بھگدڑ مچ گئی تھی۔ اس دوران 41 لوگ جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس واقعے کی تحقیقات مدراس ہائی کورٹ نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کو سونپی تھی، لیکن سپریم کورٹ نے معاملے کی تحقیقات ریاستی پولیس سے لے کر سی بی آئی کے حوالے کر دی تھی۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ تحقیقات کی نگرانی عدالت کی ایک کمیٹی بھی کر رہی ہے۔