کانگریس کے قومی سکریٹری شاہنواز عالم نے یوپی وقف بورڈ میں غیر مسلموں کی تقرری پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ہندو ٹرسٹوں میں بھی غیر ہندوؤں کی تقرری کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے تمام طبقوں میں باہمی ہم آہنگی مضبوط ہوگی۔ اگر وقف بورڈ میں ہندو ممبر ہو سکتے ہیں تو مندر ٹرسٹ میں بھی غیر ہندو ہونے چاہیے۔ شاہنواز عالم نے وقف ترمیمی قانون میں 2 غیر مسلموں کو بطور رکن نامزد کرنے کے اصول پر یہ باتیں کہیں۔ شاہنواز عالم نے مزید کہا کہ اگر یہ اصول وقف کے لیے درست ہے تو اسی دلیل کی بنیاد پر مندروں، مٹھوں، گرودواروں اور چرچوں میں بھی یہ قانون نافذ ہونا چاہیے۔ اگر وقف میں یہ شفافیت کے لیے ضروری ہے، تو مندروں اور مٹھوں میں ایسا نہ کر کے حکومت وہاں کیوں شفافیت کو برقرار نہیں رکھنا چاہتی؟کانگریس لیڈر کے مطابق رام مندر ٹرسٹ میں عطیات چوری کے الزامات کے بعد تو یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی روایت کے تحت کوئی غیر مسلم بھی فلاحی کاموں کے لیے زمین ’دان‘ یعنی وقف کر سکتا ہے۔ جیسے زیادہ تر جگہوں پر تقسیم کے بعد پنجاب میں رہ جانے والے مسلمانوں کے لیے قبرستان کی زمینیں سکھوں نے وقف کی ہیں۔ اسی طرح ماضی میں بہت سے مسلم حکمرانوں نے مندروں کے لیے زمینیں اور جاگیریں وقف کی ہیں۔ جس میں سب سے اہم گورکھپور کے گورکھ ناتھ پیٹھ کو اودھ کے نواب آصف الدولہ کی طرف سے 18ویں صدی میں کیا گیا وقف ہے۔شاہنواز عالم نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ہندوستانی تاریخ کی ابتدائی کتابیں پڑھنی چاہئیں۔ اس سے عوام میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنے کی روایات کے تئیں ان کی سمجھ بڑھے گی۔ انہیں یہ معلومات بھی ملیں گی کہ کس طرح اورنگزیب نے بنارس کے جنگم باڑی مٹھ، آسام کے کاماکھیا مندر، اجین کے مہاکال مندر، مدھیہ پردیش کے چترکوٹ میں واقع بالاجی مندر اور آسام کے امانند مندر کو زمینیں وقف کی تھیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اورنگزیب سے یہ بھی سیکھنے کو ملے گا کہ انتظامی تقرریوں میں مذہبی بنیادوں پر امتیاز کرنا ’راج دھرم‘ کے خلاف ہے۔ کیونکہ اسی ’راج دھرم‘ کے تحت اورنگزیب نے اپنی انتظامیہ میں 32 فیصد عہدیدار ہندو رکھے تھے۔