تہران (08 جولائی 2026): ایران نے امریکا پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کویت اور بحرین میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل داغ دیے۔ایران میں مختلف اہداف پر امریکی بمباری کے بعد، جسے سینٹکام نے ’’طاقت ور حملہ‘‘ قرار دیا، پاسداران انقلاب نے جوابی کارروائی کی، اور بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے بحرین اور کویت میں امریکی فوج کے 85 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے اڈے کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ کویت میں علی السالم ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا۔پاسداران نے کہا یہ آپریشن امریکی حملوں کے جواب میں ابتدائی ردعمل تھا، امریکا نے ایران پر حملے کر کے اسلام آباد معاہد ے کی خلاف ورزی کی ہے۔سعودی ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران نشانہ بن گیا، ایران کے خلاف سعودی عرب کا رد عملامریکی افواج نے ایران کے خلاف کارروائیاں مکمل کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن میں 80 سے زائد اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، سینٹ کام کا کہنا ہے کہ اس دوران ایرانی افواج کی 60 سے زائد چھوٹی کشتیوں کو ہدف بنایا گیا، فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس، اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔تازہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں پر حملے کیے، سعودی عرب نے ایران کی جانب سے سعودی ٹینکر کو نشانہ بنانے کی مذمت کی گئی، سعودی وزارت خارجہ نے کہا سعودی ٹینکر وجیان کو آبنائے ہرمز میں نشانہ بنایا گیا۔امریکی افواج کی کارروائیوں میں ایرانی میڈیا کے مطابق سیریک، جزیرہ قشم اور بندر عباس میں دھماکے ہوئے۔ امریکا نے ایران پر تیل فروخت کرنے کی پابندی بھی دوبارہ عائد کرتے ہوئے اس کا لائسنس منسوخ کر دیا ہے۔