نئی دہلی: کانگریس نے ایودھیا کے رام مندر میں چندے کی مبینہ چوری، زمین کی خرید اور تعمیراتی اخراجات میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ اٹھاتے ہوئے وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) سے وابستہ افراد اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ سے سخت پوچھ گچھ کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ اس معاملے میں صرف نچلے درجے کے ملازمین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ اصل ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش ہو رہی ہے۔کانگریس کے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی رہنما سریندر راجپوت نے کہا کہ اس مبینہ گھوٹالے کے سلسلے میں کئی ایسے سوالات ہیں جن کے جواب اب تک نہیں دیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کے اعداد و شمار کے مطابق کمبھ کے دوران تقریباً 16 کروڑ عقیدت مند ایودھیا پہنچے، لیکن اس عرصے میں صرف 84 کروڑ روپے چندے کی مد میں جمع ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اوسطاً ہر عقیدت مند نے 200 روپے بھی عطیہ کیا ہو تو مجموعی رقم تقریباً 3200 کروڑ روپے بنتی ہے، اس لیے باقی رقم کا حساب عوام کے سامنے رکھا جانا چاہیے۔سریندر راجپوت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر راجستھان کے کان کنی کے ٹھیکیدار دلیپ سنگھ راٹھوڑ مندر کے لیے مفت پتھر دینے پر آمادہ تھے تو پھر 500 روپے فی مربع فٹ کے حساب سے پتھر کیوں خریدے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایل اینڈ ٹی نے ایک روپے میں مندر تعمیر کرنے کی بات کہی تھی تو پھر تعمیر پر 2100 کروڑ روپے کیسے خرچ ہوئے۔ انہوں نے عقیدت مندوں کی جانب سے عطیہ کی گئی چاندی کی اینٹوں، زیورات اور دیگر نذرانوں کا مکمل حساب بھی طلب کیا۔کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ ٹرسٹ نے مندر سے تقریباً 8 کلومیٹر دور 84 کروڑ روپے کی زمین خریدی، جس کی قیمت بازار سے کہیں زیادہ ادا کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس زمین پر جانوروں کے چارے کی کاشت کی جا رہی ہے، حالانکہ مندر کے قریب کوئی گؤشالہ موجود نہیں، اس لیے اس خریداری کے مقصد پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹرسٹ کو اطلاعات کے حق کے قانون کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے، جس سے شفافیت پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل پر بھی اعتراض کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے سربراہ وجے وشواس پنت کے خلاف پہلے ہی ایک مقدمہ درج ہونے کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے، اس لیے غیر جانبدارانہ جانچ پر شبہات پیدا ہوتے ہیں۔سریندر راجپوت نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے خود مندر کی سنگ بنیاد اور پران پرتشٹھا کی تقریبات میں مرکزی کردار ادا کیا تھا اور ٹرسٹ کی تشکیل بھی انہی کے دور میں ہوئی، اس لیے انہیں اس معاملے پر عوام کے سامنے آ کر وضاحت کرنی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ اور شفاف جانچ کرائی جائے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔