نیو یارک : ارب پتی امریکی کاروباری شخصیت برائن جانسن کو نایاب اور لاعلاج بیماری لاحق ہوگئی ہے، جس کے بعد طویل عمر کے تجربات پر نئے سوالات اٹھ گئے۔امریکی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت اور طویل عمر پر تحقیق کے لیے مشہور ارب پتی شہری برائن جانسن نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ایک نایاب اور لاعلاج آٹو امیون بیماری ’گڈ پاسچر سنڈروم‘ کی تشخیص ہوئی ہے جو ان کے پھیپھڑوں اور گردوں کو شدید متاثر کرسکتی ہے۔ غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق 48 سالہ برائن جانسن جو ہر سال اپنی حیاتیاتی عمر کم کرنے کے منصوبے "پروجیکٹ بلیو پرنٹ” پر لاکھوں ڈالر خرچ کرتے ہیں، نے 6 جولائی 2026 کو اپنی لاعلاج بیماری سے متعلق معلومات عوام کے ساتھ شیئر کیں۔ماہرین کے مطابق گڈ پاسچر سنڈروم ایک نایاب آٹو امیون لاعلاج بیماری ہے، جس میں جسم کا مدافعتی نظام غلطی سے ایسے اینٹی باڈیز بناتا ہے جو گردوں کی فلٹرنگ جھلیوں اور پھیپھڑوں کے ہوا کے تھیلوں پر حملہ آور ہو جاتی ہیں، اس کے نتیجے میں گردوں میں شدید سوزش، پھیپھڑوں سے خون آنا اور سانس لینے میں دشواری جیسی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔اس بیماری کی ابتدائی علامات میں شدید تھکن، متلی، سانس پھولنا، خون کے ساتھ کھانسی اور جسم میں غیر معمولی سوجن شامل ہیں۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری گردوں کی مستقل ناکامی یا جان لیوا سانس کی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس بیماری کا مستقل علاج موجود نہیں، تاہم پلازما ایکسچینج (پلازما فیریسس)، کورٹیکوسٹیرائیڈز اور مدافعتی نظام کو دبانے والی ادویات کے ذریعے بعض مریضوں میں بیماری کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔برائن جانسن کے اعلان کے بعد طبی حلقوں میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ آیا ان کے متنازع اینٹی ایجنگ تجربات اس بیماری کے آغاز میں کسی حد تک کردار ادا کر سکتے ہیں۔جانسن گزشتہ کئی برسوں سے خون کے پلازما کی منتقلی، جین تھراپی، روزانہ درجنوں لیزر علاج، سخت غذائی پابندیوں اور 100 سے زائد سپلیمنٹس و تجرباتی مرکبات کے استعمال جیسے غیر روایتی طریقے اختیار کرتے رہے ہیں۔اگرچہ اس حوالے سے کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں کہ ان تجربات نے براہِ راست بیماری پیدا کی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہائی غیر معمولی حیاتیاتی مداخلتیں مدافعتی نظام پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، جس کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔برائن جانسن نے اپنی بیماری کو بھی "پروجیکٹ بلیو پرنٹ” کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے جسمانی اشاریوں (بائیو میکرز) کی پہلے سے زیادہ باریک بینی سے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا ان کا صحت کا نظام آٹو امیون بیماری سے بہتر انداز میں نمٹ سکتا ہے یا نہیں۔دوسری جانب آزاد ماہرینِ امراضِ مدافعت نے خبردار کیا ہے کہ گڈ پاسچر سنڈروم جیسے سنگین مرض میں صرف مستند اور روایتی طبی علاج پر انحصار کیا جانا چاہیے، کیونکہ غیر ثابت شدہ بائیو ہیکنگ طریقے بیماری کو مزید خطرناک بنا سکتے ہیں۔واضح رہے کہ ارب پتی برائن جانسن امریکی ٹیکنالوجی کے کاروباری اور بائیو ہیکر ہیں جو "پروجیکٹ بلیو پرنٹ ” نامی ایک انتہائی مہنگے اور سائنسی اینٹی ایجنگ پروگرام کی قیادت کر رہے ہیں جس کا بنیادی فلسفہ "ڈونٹ ڈائی” ہے۔ان کا ہدف انسانی عمر کی حد کو بڑھانا ہے۔اس منصوبے میں 30 سے زائد ڈاکٹروں اور صحت کے ماہرین کی ٹیم شامل ہے جو ان کے جسم کے ہر عضو کی نگرانی کرتی ہے۔برائن جانسن باقاعدگی سے اپنا ایم آر آئی، الٹرا ساؤنڈ، خون کے ٹیسٹ اور بائیو مارکرز کی جانچ کرواتے ہیں۔