بِہار کا واسع پور : "بیوہ گاؤں” جہاں 40 سال تک روز لاشیں گرتی رہیں، ہولناک داستان

Wait 5 sec.

گیا (بہار) : بھارتی ریاست بہار کا "بیوہ گاؤں” گزشتہ چار دہائیوں تک ایسی خونریز گینگ وار کی زد میں رہا جس نے پورے علاقے کو خوف، دہشت اور انتقام کی علامت بنا دیا۔ذرائع ابلاغ میں اکثر خاندانی، قبائلی اور جرائم پیشہ افراد کے جھگڑوں اور خونریز لڑائیوں کی خبریں تو رپورٹ ہوتی رہتی ہیں لیکن بھارت میں دو گروپوں کی اس لڑائی نے گاؤں تباہ اور نسلیں ختم کر ڈالیں۔ "بیوہ گاؤں” کی داستان پڑھ کر آپ مشہور فلم ’گینگ آف واسع پور‘ کی کہانی کو بھول جائیں گے۔نام بیوہ گاؤں کیوں پڑا؟ بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق مسلسل قتل و غارتگری، لاشوں کا گرنا، خاندانوں کا اجڑنا اور نسل در نسل چلنے والی دشمنی نے اس گاؤں کو اس قدر بدنام کردیا کہ لوگ اسے "بیوہ گاؤں” کے نام سے پکارنے لگے۔مقامی افراد کے مطابق ایک وقت ایسا بھی تھا جب گاؤں میں صبح کی خاموشی اذان یا مندر کی گھنٹیوں سے نہیں بلکہ گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے ٹوٹتی تھی۔ شام ڈھلتے ہی گلیاں سنسان ہو جاتیں اور ہر گھر کے دروازے خوف کے مارے بند ہو جاتے تھے، کیونکہ کسی کو معلوم نہیں ہوتا تھا کہ اگلی لاش کس کے گھر سے اٹھے گی۔دوستی دشمنی میں بدلی، گاؤں دو حصوں میں تقسیماس خونی داستان کا آغاز 1980ء کی دہائی میں ہوا، جب گاؤں کے دو قریبی دوست مسلم میاں اور پرسادی پاسوان ایک معمولی تنازع کے بعد ایک دوسرے کے بدترین دشمن بن گئے۔علاقہ مکینوں کے مطابق چوری کی ایک واردات کے دوران مسلم میاں پر ایک بااثر عوامی نمائندے کے والد کے قتل کا الزام لگا، جس کے بعد دونوں دوستوں کی راہیں ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئیں اور پورا گاؤں دو مخالف دھڑوں میں تقسیم ہوگیا۔دھڑ ملا، سر آج تک نہ مل سکاچند ہی ماہ بعد مسلم میاں کو بھی قتل کر دیا گیا ان کی لاش کا دھڑ گاؤں سے باہر ایک کنویں کے قریب ملا، مگر سر کبھی برآمد نہ ہو سکا۔اس واقعے نے گاؤں میں ایسی خوفناک روایت کو جنم دیا جس نے ہر شخص کو دہلا کر رکھ دیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق قاتل اکثر مقتول کا سر اپنے ساتھ لے جاتے تھے تاکہ مخالفین میں خوف و ہراس پھیلایا جا سکے۔انتقام کی آگ میں پورا خاندان جھلس گیامسلم میاں کے قتل کے بعد دشمنی مزید شدت اختیار کرگئی۔ ان کے تینوں بھائی اصغر میاں، وکیل میاں اور خلیل میاں بھی ایک ایک کرکے قتل کر دیے گئے۔بعد ازاں مختار عالم، قیوم میاں، پیارو میاں، ابو اللیث میاں، کملیش اور درجنوں دیگر افراد بھی اس خونی تصادم کی نذر ہوگئے۔ہر قتل کے بعد انتقام کی نئی کہانی جنم لیتی اور ایک لاش اگلی لاش کی بنیاد بن جاتی۔ گاؤں میں ایسا ماحول پیدا ہوگیا جہاں بھائی، چچا، بھتیجا یا کوئی بھی رشتہ محفوظ نہیں رہا۔40سال تک جاری خون کی ہولیمقامی افراد کا کہنا ہے کہ تقریباً 40 سال تک قتل و غارت کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ ہر نئی نسل اپنے بزرگوں کی دشمنی کو اپنا فرض سمجھ کر آگے بڑھاتی رہی اور گینگ وار ختم ہونے کے بجائے مزید پھیلتی گئی۔گاؤں کے ایک معمر رہائشی نے بتایا کہ انہوں نے نوجوانی میں بھی لوگوں کو مرتے دیکھا اور بڑھاپے میں بھی یہی منظر دیکھ رہے ہیں۔ان کے بقول یہ لڑائیاں زمین یا مذہب کے لیے نہیں بلکہ انا، طاقت اور برتری ثابت کرنے کے لیے لڑی جاتی تھیں۔لوگوں نے اپنی اولاد کے رشتے بھی توڑ ڈالےمسلسل قتل و غارت نے مانجھولی کی ایسی شناخت بنا دی کہ دوسرے علاقوں کے لوگ یہاں رشتے کرنے سے بھی گھبرانے لگے۔مقامی افراد کے مطابق کئی نوجوان صرف اس وجہ سے شادی نہ کر سکے کہ کوئی بھی اپنی بیٹی اس گاؤں میں بیاہنے پر آمادہ نہیں ہوتا تھا۔خوف کے باعث متعدد خاندان اپنا آبائی گاؤں چھوڑ کر دوسرے شہروں اور ریاستوں میں منتقل ہوگئے۔ شادی کی خوشیاں ماتم میں بدلنے لگیںگاؤں کے رہائشی ربُّل میاں نے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ ان کی بیٹی کی شادی میں بارات آچکی تھی، قوالی ہو رہی تھی اور ہر طرف خوشی کا ماحول تھا، اسی دوران اچانک فائرنگ ہوئی اور ان کے رشتہ دار قیوم میاں قتل ہوگئے چند لمحوں میں شادی کی تقریب ماتم میں بدل گئی اور خوشیوں کا گھر سوگ میں ڈوب گیا۔مذہبی نہیں، طاقت کی جنگ تھیدلچسپ بات یہ ہے کہ اس پورے تنازع کا تعلق نہ مذہب سے اور نہ ہی زمین یا جائیداد کے جھگڑوں سے تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق ہندو اور مسلمان برسوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں، اصل جنگ صرف غلبہ، اثر و رسوخ اور طاقت کے حصول کی تھی، جس نے پورے گاؤں کو گینگ وار کا میدان بنا دیا۔حالات میں کسی حد تک بہتریپولیس حکام کے مطابق گزشتہ 10 سے 15 برس کے دوران مسلسل کارروائیوں، سخت نگرانی اور متعدد ملزمان کی گرفتاری کے بعد بڑے پیمانے پر قتل کی وارداتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگرچہ فائرنگ پہلے جیسی نہیں ہو رہی لیکن برسوں پرانی دشمنیوں کے زخم آج بھی تازہ ہیں اور گاؤں کی خونی تاریخ لوگوں کے ذہنوں سے محو نہیں ہوئی۔