امریکی صدر ٹرمپ سینیٹ پر برہم، بل پر دستخط سے انکار کر دیا

Wait 5 sec.

واشنگٹن (11 جولائی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیٹ پر برہم ہونے کی وجہ سے ہاؤسنگ بل پر دستخط سے انکار کر دیا۔روئٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ وہ دو جماعتی حمایت سے منظور ہونے والے رہائشی اخراجات میں کمی سے متعلق بل پر دستخط نہیں کریں گے، اور اسے انھوں نے ’’بہت بورنگ‘‘ قرار دیا۔تاہم، صدر کے دستخط کے بغیر بھی ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کا مشترکہ بل قانون بن سکتا ہے، اس ہاؤسنگ بل کا مقصد گھروں کی بڑھتی قیمتوں پر کنٹرول کرنا ہے۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ وہ ’’سیو امریکا ایکٹ‘‘ منظور نہ کیے جانے پر امریکی سینیٹ کے خلاف احتجاجاً اس بل پر دستخط نہیں کر رہے۔امریکا نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کردیںاگرچہ امریکی کانگریس اس وقت شدید سیاسی تقسیم کا شکار ہے تاہم رہائشی اخراجات سے متعلق اس بل پر ریپبلکن اور ڈیموکریٹ اراکین کے درمیان ہونے والا اتفاق ایک نادر موقع ہے۔ہاؤسنگ بل کی اہم شقوں میں گھروں کی تعمیر کے منصوبوں کے لیے ماحولیاتی جائزوں کے عمل کو تیز کرنا یا بعض صورتوں میں اس سے استثنا دینا، اور وال اسٹریٹ کے بڑے سرمایہ کاروں کی جانب سے پہلے سے تعمیر شدہ سنگل فیملی گھروں کی ملکیت پر حد مقرر کرنا شامل ہے۔29 جون کو ٹرمپ نے ووٹنگ سے متعلق قانون سازی کے مقابلے میں اس ہاؤسنگ بل کو بہت بورنگ قرار دیا تھا۔ اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ اس بل کو بغیر دستخط کے ہی قانون بننے دیں گے، ایسی صورت میں یہ ہفتہ کو خودبخود نافذ العمل ہو جائے گا۔ٹرمپ نے 24 جون کو اس بل پر دستخط کی تقریب اچانک منسوخ کر دی تھی تاکہ ریپبلکن ارکان پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ سیو امریکا ایکٹ منظور کریں۔ اس مجوزہ قانون کے تحت ووٹر رجسٹریشن کے لیے شہریت کا ثبوت لازمی قرار دیا جائے گا اور ریاستی ریکارڈ کی بنیاد پر ووٹرز کا قومی ڈیٹا بیس قائم کیا جائے گا۔ ٹرمپ طویل عرصے سے، بغیر ثبوت، یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ امریکی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوتی رہی ہے۔