سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: کورٹ روم میں ہنگامہ کرنے والے شخص کے خلاف نہیں ہوگی کارروائی

Wait 5 sec.

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے درخواست گزار کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جا سکتی تھی، لیکن کوئی بھی تادیبی قدم نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سپریم کورٹ کا ماننا ہے کہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے بھی ایسے واقعات کو انجام دیا جاتا ہے۔ ایسے میں کوئی قانونی قدم اٹھانے سے متعلقہ شخص اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا۔ رجسٹرار کی جانب سے جب چیف جسٹس کو اس واقعے کے بارے میں مطلع کیا گیا تو انہوں نے بھی اس معاملے میں آگے کوئی قدم نہ اٹھانے کی ہدایت دی۔ؔدراصل جمعہ کے روز سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ایک درخواست گزار نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ اس نے عدالت میں نازیبا الفاظ کہے اور کورٹ روم میں کیس کی فائل پھینک دی۔ اس وقت سی جے آئی سوریہ کانت کورٹ روم میں موجود نہیں تھے۔ جسٹس کے وی وشوناتھن اور جسٹس آلوک ارادھے کی بنچ اس درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ عرضی گزار بغیر کسی وکیل کے خود ہی اپنا کیس لڑ رہا تھا۔سپریم کورٹ نے کورٹ روم میں ہنگامہ آرائی کرنے، کیس سے متعلق دستاویزات ہوا میں اچھالنے اور ہندوستان کے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والے عرضی گزار پربل پرتاپ کے خلاف فی الحال کوئی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم عدالت عظمیٰ نے درخواست گزار کے رویے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس کی درخواست بھی خارج کر دی۔ جسٹس کے وی وشوناتھن اور جسٹس آلوک ارادھے پر مشتمل بنچ کے سامنے عرضی گزار نے ایسی حرکت کی تھی، جس کے بعد سیکورٹی اہلکار اسے حراست میں لے کر کورٹ روم سے باہر چلے گئے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے درخواست گزار کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جا سکتی تھی، لیکن کوئی بھی تادیبی قدم نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سپریم کورٹ کا ماننا ہے کہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے بھی ایسے واقعات کو انجام دیا جاتا ہے۔ ایسے میں کوئی قانونی قدم اٹھانے سے متعلقہ شخص اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا۔ رجسٹرار کی جانب سے جب چیف جسٹس کو اس واقعے کے بارے میں مطلع کیا گیا تو انہوں نے بھی اس معاملے میں آگے کوئی قدم نہ اٹھانے کی ہدایت دی۔دراصل جمعہ کے روز سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ایک درخواست گزار نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ اس نے عدالت میں نازیبا الفاظ کہے اور کورٹ روم میں کیس کی فائل پھینک دی۔ اس وقت سی جے آئی سوریہ کانت کورٹ روم میں موجود نہیں تھے۔ جسٹس کے وی وشوناتھن اور جسٹس آلوک ارادھے کی بنچ اس درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ عرضی گزار بغیر کسی وکیل کے خود ہی اپنا کیس لڑ رہا تھا۔سماعت کے دوران اس نے خود کو ’خود مختار‘ بتایا اور کیس کی فائل کے کاغذات ہوا میں اچھال دیے۔ عرضی گزار کے اس رویے سے کورٹ روم میں کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی اور سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر اسے کورٹ روم سے باہر نکال دیا۔ جیسے ہی سماعت شروع ہوئی عرضی گزار نے کہا کہ ’’یور آنر، میں آپ کو لکھنؤ کے اے سی پی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیتا ہوں۔‘‘ جسٹس کے وی وشوناتھن نے حیرت کا اظہار کیا اور پوچھا کہ ’’کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟‘‘ عرضی گزار نے جواب دیا ’’میری طرف سے بس اتنا ہی، سب کچھ ریکارڈ پر ہے۔‘‘ پھر اس نے کیس کی فائل ہوا میں پھینک دی اور نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے لگا۔ سیکورٹی اہلکاروں نے فوری مداخلت کرتے ہوئے اسے کورٹ روم سے باہر لے گئے۔