افغان وزیر نے بھارت اور افغانستان کا ڈی این اے ایک قرار دیدیا

Wait 5 sec.

نئی دہلی(11 جولائی 2026): افغان وزیر نے بھارت کے دورے کے دوران ایک انتہائی متنازع اور مضحکہ خیز بیان دیتے ہوئے افغانستان اور بھارت کا ڈی این اے ایک قرار دے دیا ہے۔نئی دہلی میں گفتگو کرتے ہوئے افغان عبوری حکومت کے وزیرِ زراعت مولوی عطا اللہ عمری نے کہا کہ انہیں بھارت آکر ہرگز یہ احساس نہیں ہوا کہ وہ کسی غیر ملک میں ہیں، بلکہ انہیں یوں لگا جیسے بھارت ان کا اپنا ہی ملک ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان اور بھارت کا ڈی این اے ایک ہی ہے۔سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق طالبان وزیر کے اس بیان سے پاکستان کے اس موقف کو مزید تقویت ملی ہے کہ مودی سرکار کی پشت پناہی اور طالبان کی سرپرستی میں خطے میں دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیریوں اور فلسطینیوں پر ہونے والے بھیانک مظالم پر خاموش رہنے والی طالبان حکومت اب اسلامی روایات سے مکمل طور پر منحرف ہوچکی ہے، اور محض چند پیسوں کی خاطر بھارت سے اپنا ڈی این اے ملانا اسی فکری انحراف کا ثبوت ہے۔ماہرین نے مزید اصرار کیا ہے کہ اگر ڈی این اے کی کوئی مماثلت ہے تو وہ بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور طالبان کے موجودہ اقدامات میں ہے، کیونکہ مودی حکومت پہلے ہی اسرائیل کو اپنا ‘فادر لینڈ’ قرار دے چکی ہے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو افغان وزیر کا یہ بیان دراصل افغانستان، بھارت اور اسرائیل کی مبینہ نظریاتی قربت کا واضح عکاس ہے۔