سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے ہفتہ کے روز میرٹھ میں ہونے والے دلت طالبہ کے قتل کے معاملے میں متاثرہ خاندان سے ملاقات کی۔ اس دوران ان کے ساتھ کیرانہ سے سماجوادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن بھی موجود تھیں۔ اکھلیش یادو نے خاندان کو انصاف دلانے میں ساتھ کھڑے رہنے کا یقین دلایا۔ اکھلیش یادو نے الزام عائد کیا کہ نامزد ملزمان پر ہلکی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جبکہ انصاف کا مطالبہ کر رہے مظاہرین کے خلاف سنگین فعات لگائی گئیں۔जब वो ख़ुद ही बेलगाम है जिसके हाथ में लगाम हैतो फिर उनका क्या, जो उनके दरबार में दरबान है!‘मेरठ की बेटी’ के साथ हुए महा-अत्याचार व हत्या के बाद जिस तरह नामज़द आरोपियों पर कमज़ोर धाराओं में मुक़दमा दर्ज़ किया गया है और आंदोलनकारियों पर गंभीर धाराओं में मुक़दमा लगाया गया है, वो… pic.twitter.com/Q5yJafYKvv— Akhilesh Yadav (@yadavakhilesh) July 11, 2026اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’جب وہ خود ہی بے لگام ہے جس کے ہاتھ میں لگام ہے، تو پھر ان کا کیا جو ان کے دربار میں دربان ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا کہ ’’میرٹھ کی بیٹی کے ساتھ ہونے والے مظالم اور قتل کے بعد جس طرح نامزد ملزمان کے خلاف کمزور دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور مظاہرین پر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے، وہ ناانصافی کی انتہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ جس پولیس سے انصاف کی امید ہوتی ہے، ان کے ہی اعلیٰ افسران ناانصافی اور اپنے غرور کا مسلسل تھپڑ عوام کے گال پر مار رہے ہیں۔‘‘اکھلیش یادو نے کہا کہ پوری دنیا میں ویڈیو پھیل چکی ہے، جو اتر پردیش پولیس کی شبیہ کو نقصان پہنچا ہے۔ اس سے وہ پولیس اہلکار بھی شرمندہ ہیں، جو فرض شناسی اور عوام کے لیے حساس ہیں اور ہمیشہ انسانی ہمدردی کے جذبے کے ساتھ اپنا کام کرتے ہیں۔ اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ پی ڈی اے اب برداشت نہیں کرے گا، بلکہ اپنی آواز بلند کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ جس ریاست کا سربراہ ہی خواتین کے ساتھ، بالخصوص ایک نوجوان متوفی کی غم زدہ والدہ کے ساتھ سرعام بدتمیزی کرے، وہاں کی پولیس سے کسی بھی طرح کی امید رکھنا بے معنی ہے۔ دماغ جیسا حکم دیتا ہے، انگلیاں بھی ویسا ہی عمل کرتی ہیں۔ اب عوام بی جے پی کی تقاریر سننے کے موڈ میں نہیں ہے۔