دتیا: ٹکٹ کٹنے پر نروتم مشرا کے حامیوں کا ہنگامہ، این ایچ 44 جام، پتھراؤ میں ایس پی اور اے ایس پی سمیت 8 زخمی

Wait 5 sec.

مدھیہ پردیش کی دتیا اسمبلی سیٹ پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے لیے بی جے پی کی جانب سے امیدوار کا اعلان کیے جانے کے بعد شروع ہونے والا احتجاجی مظاہرہ پرتشدد شکل اختیار کر گیا۔ سابق وزیر داخلہ نروتم مشرا کو ٹکٹ نہ ملنے سے ناراض حامیوں نے جمعہ کی شام قومی شاہراہ-44 پر چکا جام کر دیا، جو دیر رات تشدد میں تبدیل ہو گیا۔ دتیا انتظامیہ کے مطابق یہ جام تقریباً 11 گھنٹے تک جاری رہا اور صبح تقریباً 5 بجے جا کر صورتحال پر قابو پایا جا سکا۔ مظاہرے کے باعث 20 سے 25 کلومیٹر طویل ٹریفک جام لگ گیا۔ اس کا اثر دتیا کے علاوہ جھانسی، شیوپوری اور گوالیر تک پڑا، جس میں سب سے زیادہ متاثر گوالیر رہا۔ جام میں کئی بسیں اور ایمبولینس بھی پھنس گئیں۔#WATCH | Datia, MP | Heavy security deployed at the spot where supporters of former State Home Minister Narottam Mishra pelted stones at Police in Datia as they protested after the BJP denied him a ticket for the upcoming assembly bypoll. Thousands of his followers blocked… pic.twitter.com/9Yj9JKiI7P— ANI MP/CG/Rajasthan (@ANI_MP_CG_RJ) July 11, 2026دتیا کے کلکٹر سوپنل وانکھیڑے نے بتایا کہ انتظامیہ پوری رات مظاہرین کو سمجھانے کی کوشش کرتی رہی، لیکن وہ نہ مانے۔ علی الصبح تقریباً 4 بجے پولیس اور انتظامیہ نے ایک بار پھر مظاہرین سے سڑک خالی کرنے کی اپیل کی، لیکن اس کے بعد مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ شروع ہو گیا۔ کلکٹر کے مطابق حالات بگڑنے پر پولیس نے ہجوم کو پیچھے دھکیلنے کے لیے آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔ اس کے بعد مظاہرین ایک دفتری عمارت کے اندر چلے گئے اور وہاں سے بھی پولیس پر مسلسل پتھراؤ کرتے رہے۔ اس تشدد میں پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی)، ایڈیشنل ایس پی، ایس ڈی او پی سمیت کل 8 پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔ کلکٹر سوپنل وانکھیڑے نے بتایا کہ ان کے سر پر بھی پتھر لگا، حالانکہ ہیلمٹ پہننے کی وجہ سے وہ شدید چوٹ سے محفوظ رہے۔STORY | MP bypoll: Narottam Mishra's supporters clash with cops, block highway after ticket snubViolence erupted in Madhya Pradesh's Datia district on Saturday, as supporters of senior BJP leader Narottam Mishra clashed with police and blocked a national highway after the… https://t.co/o7cEa6icj5— Press Trust of India (@PTI_News) July 11, 2026انتظامیہ کے مطابق تشدد کے دوران کئی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ 3 سے 4 پولیس گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے، کئی ٹرکوں کو نقصان پہنچایا گیا اور کچھ گاڑیوں کو الٹ بھی دیا گیا۔ کلکٹر نے کہا کہ پورے واقعے کے دوران پولیس نے نہ تو لاٹھی چارج کیا اور نہ ہی جوابی پتھراؤ کیا۔ انتظامیہ نے صورتحال کو پرامن طریقے سے سنبھالنے کی پوری کوشش کی اور جب کوئی دوسرا متبادل نہیں بچا، تب ہی آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ فی الحال انتظامیہ مظاہرین سے اپیل کر رہی ہے کہ وہ ایک ایک کر کے باہر نکلیں اور اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔ اگر وہ امن و امان کے ساتھ باہر آتے ہیں تو انتظامیہ کسی قسم کی تادیبی کارروائی نہیں کرنا چاہتی۔ تاہم اگر وہ گروہ بنا کر باہر نکلنے یا دوبارہ امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کریں گے تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔واضح رہے کہ بی جے پی نے دتیا ضمنی انتخاب کے لیے سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کی جگہ آشوتیش تیواری کو امیدوار بنایا ہے۔ مشرا اور ان کے حامیوں کو امید تھی کہ پارٹی انہیں ہی ٹکٹ دے گی۔ امیدوار کے اعلان کے بعد بڑی تعداد میں حامی سڑکوں پر اتر آئے اور احتجاجی مظاہرہ شروع ہو گیا۔نروتم مشرا کا ٹکٹ کٹنے پر ان کے حامیوں میں ناراضگی!قابلِ ذکر ہے کہ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے راجیندر بھارتی نے ڈاکٹر نروتم مشرا کو تقریباً 7500 ووٹوں سے ہرایا تھا۔ اپریل 2026 میں دہلی کی ایک عدالت کی جانب سے دھوکہ دہی کے معاملے میں راجیندر بھارتی کو 3 سال کی سزا سنائے جانے کے بعد ان کی اسمبلی رکنیت ختم ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے دتیا سیٹ خالی ہوئی۔ اس سیٹ پر 30 جولائی کو پولنگ اور 3 اگست کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔