رام مندر عطیہ چوری معاملہ: کانگریس لیڈر ابھشیک منو سنگھوی نے مرکزی حکومت کو بنایا نشانہ

Wait 5 sec.

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر ابھیشیک منو سنگھوی نے رام مندر میں عطیہ کی چوری معاملہ پر ایک پریس کانفرنس میں مرکزی حکومت اور مندر ٹرسٹ کو نشانہ بنایا۔ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے دفتر راجیو بھون میں ہوئی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنگھوی نے کہا کہ اس حکومت کے تحت نہ تو ادارے بچے ہیں اور نہ ہی مندر بچے ہیں۔ انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اتنے بڑے مسئلے پر خاموش کیوں ہیں؟ انہیں عوام کو جواب دینا چاہیے۔ یہ صرف پیسے کی چوری کا معاملہ نہیں ہے بلکہ کروڑوں لوگوں کے عقیدہ کا معاملہ ہے۔سنگھوی نے میڈیا اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک دہاڑی مزدور روزانہ 500 روپے کماتا ہے اور 50 روپے کسی مندر کو عطیہ کرتا ہے، تو وہ ایسا عقیدہ کی بنیاد پر کرتا ہے۔ انھوں نے غریبوں کے ذریعہ دیے گئے چندہ کی چوری کے باوجود چمپت رائے کا ایف آئی آر میں نام نہ ہونے پر بھی سوال اٹھایا ہے۔اس دوران ابھشیک منو سنگھوی نے پانچ مطالبات بھی سامنے رکھے۔ پہلا مطالبہ یہ کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اس معاملے پر اپنی خاموشی توڑنی چاہیے اور پریس کانفرنس کرنا چاہیے، اور پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے۔ دوسرا، اس معاملے میں چمپت رائے کو بھی گرفتار کیا جائے ایف آئی آر میں ان کا نام کیوں نہیں؟ صرف استعفیٰ دینے سے کافی نہیں ہوگا۔ تیسرا مطالبہ، مندر کے ٹرسٹ پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں تحقیقات کرائی جانی چاہیے۔ چوتھا مطالبہ، مندر ٹرسٹ کو تحلیل کیا جانا چاہیے اور قابل اعتماد لوگوں کے ساتھ دوبارہ مقرر کیا جانا چاہیے، نہ کہ وشو ہندو پریشد، بی جے پی یا مرکزی حکومت کے ذریعہ منتخب کردہ لوگ رکھے جائیں۔ پانچواں اور آخری مطالبہ، پورے معاملے کو فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔رام مندر میں ہوئی چندہ چوری نے بی جے پی-آر ایس ایس کی فطرت، کردار اور چہرہ ملک کے سامنے لا دیا: کانگریسکانگریس لیڈر نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ایس آئی ٹی کی تشکیل کر معاملے کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جب بھی کوئی سنگین معاملہ ہوتا ہے تو ایس آئی ٹی کی تشکیل سے پہلے ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی ہے۔ یہ ایس آئی ٹی معاملے کو سلجھانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ سارا الزام چند 9-8 افراد پر ڈال دیا گیا ہے۔ اس میں ایک ڈرائیور بھی شامل ہے۔ جبکہ ٹرسٹ کے اندر بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ سب کچھ چمپت رائے کی نگرانی میں ہو رہا تھا۔ سنگھوی نے کہا کہ چمپت رائے مرکزی حکومت کی پسند تھے اور اس لیے انہیں تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔رام مندر عطیہ چوری معاملے پر دہلی کانگریس صدر دیوندر یادو نے کہا کہ یہ جو شری رام مندر ہے یہ اینٹوں اور پتھروں کی عمارت نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کی آستھا کا ایک مندر ہے۔ جب آستھا کے مندر میں اس طرح کے معاملے ہوتے ہیں، اور ایسے وقت پر ملک کے وزیر اعظم خاموش رہیں گے تو کانگریس پارٹی کو یہ منظور نہیں ہے۔