کانگریس کے سینئر لیڈر اور پارٹی کے خزانچی اجئے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی کے حوالے سے ایک بار پھر مرکز کی مودی حکومت اور دہلی کی ریکھا گپتا حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر دہلی کے فضائی معیار (اے کیو آئی) سے متعلق تازہ اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ قومی راجدھانی کی ہوا اب بھی صحت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔موسمی اثرات الگ کرنے پر دہلی میں پی ایم 10 گزشتہ سال سے 14 فیصد زیادہ، سخت اقدامات کرے حکومت: اجے ماکن اجئے ماکن کے مطابق دہلی کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 102 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے معیار کے مطابق محفوظ سطح اے کیو آئی 25 ہونی چاہیے، جو پی ایم 2.5 کی 15 مائیکروگرام فی مکعب میٹر مقدار کے مساوی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ شہر کا اوسط اے کیو آئی 102 ہے، جسے ’درمیانی‘ زمرے میں رکھا جاتا ہے، لیکن آبادی کے تناسب سے وزن شدہ اے کیو آئی 113 تک پہنچ جاتا ہے، جو زیادہ تشویش ناک صورت حال کی نشاندہی کرتا ہے۔اجئے ماکن نے سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ دہلی کے مختلف علاقوں میں وزیر پور کی فضائی کیفیت سب سے زیادہ خراب ریکارڈ کی گئی۔ ان کے مطابق موسمی اثرات کو الگ رکھنے کے بعد وزیر پور کا اے کیو آئی 138 رہا، جہاں پی ایم 10 آلودگی نمایاں طور پر زیادہ پائی گئی۔दिल्ली की हवा पर चेतावनी शहर का औसत AQI 102 — जबकि WHO मानक AQI 25 है, जो PM2.5 के 15 μg/m³ के बराबर है।• शहर AQI 102 — ‘मध्यम’ (population weighted 113)• सबसे ख़राब: Wazirpur — मौसम हटाने पर AQI 138 (PM10 का इलाक़ा)सरकार से माँग — sulphur dioxide पर तुरंत कार्रवाई;… pic.twitter.com/E0pm2nh0Ya— Ajay Maken (@ajaymaken) July 11, 2026کانگریس لیڈر نے اس صورت حال پر مرکز کی مودی حکومت اور دہلی کی ریکھا گپتا حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سلفر ڈائی آکسائیڈ (SO₂) کے اخراج کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے وزیر پور جیسے زیادہ آلودہ علاقوں میں مقامی سطح پر خصوصی کارروائی کرنے، شہر کے ہر ایئر مانیٹرنگ اسٹیشن کا ریئل ٹائم اے کیو آئی عوام کے سامنے پیش کرنے اور متعلقہ اداروں کی جوابدہی طے کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔اجئے ماکن نے اپنی پوسٹ کے آخر میں کہا کہ ’’سانس لینا ایک بنیادی حق ہے، کوئی سہولت نہیں۔‘‘ ان کے اس بیان کے ذریعے کانگریس نے ایک بار پھر فضائی آلودگی کے مسئلے پر مرکز کی مودی حکومت اور دہلی کی ریکھا گپتا حکومت کو نشانے پر لیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ عوام کو صاف ہوا فراہم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔