کلکتہ ہائی کورٹ کی ابھیشیک بنرجی کو تنبیہ، ’آواز کا نمونہ نہ دیا تو عدالتی تحفظ ختم ہو سکتا ہے‘

Wait 5 sec.

کولکاتا: کلکتہ ہائی کورٹ نے ترنمول کانگریس کے جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ وہ 15 جولائی کو دوپہر دو بجے تک بیدھان نگر عدالت میں پیش ہو کر مغربی بنگال پولیس کے محکمہ جرائم کی تفتیش کے افسران کو اپنی آواز کا نمونہ فراہم کریں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر وہ مقررہ وقت تک اس حکم پر عمل نہیں کرتے تو انہیں گرفتاری سمیت پولیس کی کارروائی سے حاصل عبوری عدالتی تحفظ واپس لیا جا سکتا ہے۔جسٹس سوگت بھٹاچاریہ کی واحد بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ ابھیشیک بنرجی کو عدالتی مجسٹریٹ اور فارنسک ماہرین کی موجودگی میں آواز کا نمونہ دینا ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی عندیہ دیا کہ حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں صرف عبوری تحفظ ہی ختم نہیں ہوگا بلکہ ان پر مالی جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔یہ معاملہ حالیہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل ایک انتخابی جلسے میں دیے گئے مبینہ اشتعال انگیز بیان سے متعلق ہے۔ ابھیشیک بنرجی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران تشدد پر اکسانے اور مرکزی وزیر داخلہ کو دھمکی دینے جیسے بیانات دیے تھے، جن کی تفتیش کے سلسلے میں ان کی آواز کا نمونہ درکار ہے۔عدالت نے اس بات پر بھی سخت ناراضی ظاہر کی کہ ابھیشیک بنرجی پہلے بھی دو مرتبہ عدالت میں حاضر ہو کر آواز کا نمونہ دینے سے گریز کر چکے ہیں۔ آٹھ جولائی کو بھی وہ بیدھان نگر عدالت میں مقررہ وقت پر حاضر نہیں ہوئے تھے، حالانکہ عدالت نے ایک دن پہلے ہی انہیں پیش ہونے کا مشورہ دیا تھا۔ اس موقع پر محکمہ جرائم کی تفتیش کے افسران تقریباً دو گھنٹے تک عدالت میں ان کا انتظار کرتے رہے۔ابھیشیک بنرجی نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ انہیں آواز کا نمونہ دینے کے لیے ذاتی طور پر بیدھان نگر عدالت میں حاضر ہونے سے استثنا دیا جائے، تاہم جمعہ کو اس درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ان کی استدعا مسترد کر دی اور واضح الفاظ میں آخری مہلت دے دی۔سماعت کے دوران ابھیشیک بنرجی کے وکیل نے عدالت کو یقین دلایا کہ ان کے مؤکل عدالتی حکم کی مکمل پابندی کریں گے اور مقررہ تاریخ اور وقت پر عدالت میں حاضر ہو کر اپنی آواز کا نمونہ فراہم کریں گے۔ وکیل نے عدالت سے یہ بھی درخواست کی کہ پیشی کے دوران ان کے مؤکل کو کسی قسم کی جسمانی ہراسانی یا غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس پر جسٹس سوگت بھٹاچاریہ نے مغربی بنگال پولیس کو ہدایت دی کہ جس دن ابھیشیک بنرجی عدالت میں پیش ہوں، اس روز ان کی مناسب سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عدالتی کارروائی پُرامن طریقے سے مکمل ہو سکے۔ عدالت نے واضح کیا کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد ہر شہری کی ذمہ داری ہے اور اس معاملے میں مزید تاخیر یا عدم تعاون کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔