مشہور اداکار راج پال یادو کو 3 ماہ کی جیل، چیک باؤنس کیس میں دہلی ہائی کورٹ نے سنائی سزا، 7.35 کروڑ کا جرمانہ بھی عائد

Wait 5 sec.

بالی ووڈ کے مشہور اداکار راج پال یادو کو چیک باؤنس کے معاملے میں ایک بار پھر جیل جانا ہوگا۔ دہلی ہائی کورٹ نے انہیں 3 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کے ساتھ عدالت نے ان پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ جمعہ (10 جولائی) کو دہلی ہائی کورٹ میں اس معاملے کی سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے راج پال یادو کی سزا کو برقرار رکھا۔The Delhi High Court on Friday upheld the conviction of actor Rajpal Yadav in various cheque bounce cases registered against him and sentenced him to simple imprisonment of three months.Read more: https://t.co/zc40yIqMxt pic.twitter.com/EzPT4RTKbh— Live Law (@LiveLawIndia) July 10, 2026ہائی کورٹ نے چیک باؤنس کے تمام 7 مقدمات میں راج پال یادو کو 3-3 ماہ کی سادہ قید کی سزا سنائی ہے۔ تاہم عدالت نے حکم دیا کہ تمام سزائیں ایک ساتھ چلیں گی، اس لیے انہیں مجموعی طور پر صرف 3 ماہ کی سزا ہی کاٹنی ہوگی۔ جسٹس سورن کانتا شرما کی بنچ نے راج پال یادو کی جانب سے نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف داخل درخواستیں مسترد کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی۔ انھوں نے کہا کہ راج پال یادو کو عدالت میں دیے گئے اپنے تحریری عہد (انڈرٹیکنگ) پر عمل کرنے کے لیے کئی مواقع فراہم کیے گئے، لیکن بار بار موقع ملنے کے باوجود انہوں نے اس کی پابندی نہیں کی۔عدالت نے 3 ماہ قید کی سزا کے ساتھ ہی ہر مقدمہ میں 1.05 کروڑ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ اس طرح ساتوں مقدمات میں مجموعی جرمانہ 7.35 کروڑ روپے بنتا ہے۔ عدالتی حکم کے مطابق ہر مقدمے میں ایک کروڑ 4 لاکھ 75 ہزار روپے شکایت کنندہ کو جبکہ 25 ہزار روپے ریاست کو ادا کیے جائیں گے۔एक्टर Rajpal Yadav पर चेक-बाउंस का केस कुछ महीने पहले बहुत चर्चा में था. बॉलीवुड सेलेब्रिटीज से राजपाल को इस मामले से निकालने के लिए काफी फाइनेंशियल मदद मिली थी और फरवरी में वो जेल से जमानत पर बाहर भी आ गए थे. लेकिन अब राजपाल को बड़ा झटका लगा है और उनके एक्शंस को 'संदिग्ध' बताते… pic.twitter.com/OM7slkqwBm— AajTak (@aajtak) July 10, 2026قابل ذکر ہے کہ راج پال یادو نے 2010 میں ’اتہ پتہ لاپتہ‘ کے نام سے ایک فلم بنائی تھی۔ اس فلم کے لیے انہوں نے 5 کروڑ روپے کا قرض لیا تھا۔ تاہم راجپال یادو کا کہنا تھا کہ یہ قرض نہیں بلکہ سرمایہ کاری تھی۔ وہ یہ رقم واپس ادا نہ کر سکے، جس کے بعد واجب الادا رقم بڑھ کر 9 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی معاملے میں انہوں نے 5 فروری 2026 کو تہاڑ جیل میں خود سپردگی کی تھی۔ اس مشکل وقت میں سونو سود سمیت کئی اداکاروں نے ان کی مدد کی تھی۔ راج پال یادو نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ’’آنے والے برسوں میں میرے پاس برانڈنگ کے لیے 1200 کروڑ روپے کا کام ہے۔ میرے پاس 4 معاہدے ہیں، جن میں فلمیں شامل نہیں ہیں۔ کوئی پروجیکٹ 200 کروڑ روپے کا ہے، کوئی 2000 کروڑ روپے کا۔ ان میں کچھ میری فیس ہے اور کچھ پروجیکٹس میں میرا شیئر ہے۔ اس کے علاوہ میری 10 فلمیں بھی لائن میں ہیں۔‘‘تہاڑ جیل سے رہائی کے بعد راج پال یادو نے کہا تھا کہ ’’میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں پیسوں سے گھرا ہوا ہوں۔ راج پال ایک چلتی پھرتی چیک بک ہے۔ میں پیسہ کماتا ہوں، لوگوں کو پیسہ کمانے میں مدد کرتا ہوں، اور کئی گھرانوں کا روزگار مجھ پر منحصر ہے۔‘‘ واضح رہے کہ حال ہی میں راج پال یادو فلم ’بھوت بنگلہ‘ اور ’ویلکم ٹو دی جنگل‘ میں نظر آئے تھے۔ دونوں فلموں نے باکس آفس پر اچھی کمائی کی۔