بہار کے پورنیہ سے آزاد رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے پیر کو بہار میں سیلاب کی صورتحال کو لے کر مرکزی اور ریاست کی این ڈی اے حکومت پر جم کر حملہ بولا۔ پٹنہ میں منعقد پریس کانفرنس میں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری سمیت حکمراں جماعت کے لیڈران پر سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کے مطابق بہار کے 19 سے 22 اضلاع سیلاب سے متاثر ہیں اور تقریباً 1.46 لاکھ ہیکٹر زمین زیر آب ہے۔ تقریباً 56 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہیں اور کئی علاقوں میں لوگوں کو کھانے، پینے کے پانی، ادویات، پلاسٹک شیٹ اور مویشیوں کے چارے تک کی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی گاؤں میں لوگ گزشتہ کئی دنوں سے آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں اور سانپ کے کاٹنے اور کرنٹ لگنے سے بھی لوگوں کی موت ہو رہی ہے۔VIDEO | Patna: Purnia MP Pappu Yadav on Bihar floods, says, "I want to ask Prime Minister Narendra Modi, what is the difference between him and former Prime Minister Manmohan Singh? In 2008, when the Kosi-Seemanchal region faced a devastating flood, Manmohan Singh and Sonia… pic.twitter.com/XQfUQ5QXfH— Press Trust of India (@PTI_News) September 14, 2026پریس کانفرنس کے دوران پپو یادو نے کہا کہ 2008 میں سیمانچل میں آئے سیلاب کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس لیڈر سونیا گاندھی متاثرہ علاقوں میں پہنچے تھے اور سیلاب کو قومی آفت قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ موجودہ حکومت نے بہار کے سیلاب کو لے کر اب تک کیا اقدامات کیے ہیں؟ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ انتخابات کے وقت بہار میں لیڈران کے لیے سینکڑوں ہیلی کاپٹر نظر آتے ہیں، لیکن جب لاکھوں لوگ سیلاب سے پریشان ہیں تو عوامی نمائندے اور بڑے لیڈران متاثرہ علاقوں میں نظر نہیں آ رہے ہیں۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بہار کو سیلاب سے پاک کرنے کے پرانے وعدے کا ذکر کرتے ہوئے پوچھا کہ اب تک اس سمت میں مستقل حل کیوں نہیں نکلا۔پپو یادو نے سیلاب کے مسئلے کے لیے حکومتوں، افسران اور ٹھیکیداروں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اسے ’مَین میڈ اور لیڈر میڈ ڈیزاسٹر‘ قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’فلڈ فائٹنگ اینڈ اینٹی ایروژن‘ کاموں کے نام پر سالوں سے بڑے پیمانے پر رقم خرچ کی گئی، لیکن مسئلے کا مستقل حل نہیں نکلا۔ انہوں نے کیگ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کاموں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دریاؤں میں گاد، پشتوں کی حالت اور شہروں میں نکاسی آب کے مسئلے پر طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔Patna, Bihar: Purnia MP Pappu Yadav says, "In 2019, ₹13,379 crore was spent in the name of flood fighting and anti-erosion works.....In 2018–2019, ₹8,156 crore was spent. Around 2007, ₹1,227 crore was spent...." pic.twitter.com/FtT4LGAkxn— IANS (@ians_india) September 14, 2026پپو یادو کے مطابق امدادی کارروائیوں میں بھی بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں اور کئی راحت کیمپوں میں لوگوں کو مناسب کھانا، دودھ اور صاف پانی نہیں مل رہا ہے۔ منیہاری، روپولی، نوگچھیا اور بہپور سمیت کئی علاقوں میں لوگ پینے کے پانی کے لیے پریشان ہیں اور بڑی تعداد میں ہینڈ پمپ سیلابی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ نے سیلاب راحت کے نام پر خرچ ہونے والی رقم میں مبینہ گڑبڑی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹی سطح کے راحتی کاموں کے بلوں میں بھی اصل خرچ سے زیادہ رقم دکھائے جانے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے مستقل حل کے لیے صرف راحت اور بچاؤ نہیں، بلکہ دریاؤں میں گاد، پشتوں اور بیراجوں کی حالت پر بھی سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔پپو یادو نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کچھ مقامات پر کچھ دیر رک کر واپس چلے گئے اور متاثرہ خاندانوں سے مناسب بات چیت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کو صرف معائنہ اور فوٹو سیشن نہیں بلکہ فوری راحت اور مستقل حل چاہیے۔ انہوں نے مرکز اور ریاستی حکومت سے سیلاب کو سیاسی چشمے سے نہیں بلکہ انسانی بحران کے طور پر دیکھنے کی اپیل کی۔ پپو یادو نے کہا کہ بہار کے عوام کو ہر سال سیلاب کی تباہی جھیلنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ کو ایک ماہ کے لیے آفات سے نمٹنے کی ذمہ داری انہیں سونپنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیلاب متاثرہ خاندانوں تک مالی امداد، کسانوں کے لیے راحت اور مکانات و مویشیوں کے نقصان کا معاوضہ پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کسی عہدے یا فائدے کی خواہش نہیں ہے بلکہ سیلاب متاثرین تک راحت پہنچانا ان کا مقصد ہے۔