ایڈیڈاس کے گروگرام واقع ’انڈیا ٹیک ہب‘ میں 50 فیصد ملازمین کی ہوئی چھٹی، 350 افراد کا روزگار ختم!

Wait 5 sec.

اسپورٹس ویئر برانڈ ’ایڈیڈاس‘ نے ہندوستان میں کام کرنے والے کئی ملازمین کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ کمپنی نے گروگرام میں واقع ’انڈیا ٹیک ہب‘ میں بڑے پیمانے پر چھنٹنی کی ہے۔ کمپنی کے اس فیصلے سے ہب میں کام کرنے والے تقریباً 50 فیصد لوگوں کی ملازمت چلی گئی ہے۔ 15 ستمبر کو ہوئی ایک ٹاؤن ہال میٹنگ میں مینجمنٹ نے اپنے سخت فیصلے کی اطلاع ملازمین کو دی۔ ٹیک سیکٹر میں پہلے سے ہی مایوسی کا ماحول تھا، ایسے حالات میں ایڈیڈاس کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم ملازمین کے لیے کسی برے خواب سے کم نہیں ہے۔#Business | Adidas lays off 50% workforce at Gurugram Tech Hub, calls it 'difficult decision'Adidas confirmed the workforce reduction, describing it as a “difficult decision" aimed at streamlining its processes and aligning its technology organisation with the changing needs of…— Moneycontrol (@moneycontrolcom) September 16, 2026ایڈیڈاس نے 2021 میں اس انڈیا ٹیک ہب کی شروعات کی تھی۔ اس کا مقصد ٹیکنالوجی سیکٹر کی بہترین صلاحیتوں کو اپنے ساتھ وابستہ کرنا تھا۔ یہاں کی ٹیم ایڈیڈاس کے پروڈکٹس سے وابستہ تمام اہم پروجیکٹس کو سنبھالتی تھی۔ تقریباً 5 برسوں تک سب کچھ ٹھیک رہا، اب اچانک کمپنی نے اپنے 700 ملازمین میں سے آدھے، یعنی تقریباً 350 ملازمین کو ہٹا دیا ہے۔ ان میں ڈاٹا سائنسدان، ڈاٹا انجینئرز اور کئی سینئر سافٹ ویئر انجینئرز شامل ہیں۔ ان میں بیشتر کمپنی کے اہم منصوبوں پر کام کر رہے تھے۔ایڈیڈاس مینجمنٹ نے ملازمت سے ہٹائے گئے لوگوں کو 2 گروپ میں تقسیم کر دیا ہے۔ پہلے گروپ میں شامل لوگوں کو 15 ستمبر کو ہی ایگزٹ لیٹر دے دیا گیا تھا، جبکہ دوسرے گروپ کو تھوڑی مہلت ملی ہے۔ یہ لوگ 15 دسمبر تک کمپنی میں رہیں گے۔ اس دوران ان لوگوں کا کام دوسرے ملازمین کو اپنی ذمہ داریاں سونپنا ہوگا۔ ایڈیڈاس نے وضاحت کی ہے کہ متاثرہ ملازمین کو مناسب ٹرانزیشن سپورٹ دیا جائے گا۔ حالانکہ کمپنی کس طریقے سے مدد کرے گی، فی الحال اس پر وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ سبھی کے ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کمپنی کو آخر اتنی بڑی چھٹنی کیوں کرنی پڑی۔ ایڈیڈاس نے اس فیصلے کو اپنے لیے بھی بے حد مشکل بتایا ہے۔مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کام کرنے کے طریقے کو بے حد آسان بنانا چاہتے ہیں۔ بازار کی ضرورتوں کے مطابق ٹیم کو دوبارہ تیار کیا جا رہا ہے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ تنظیم کے کچھ حصوں کو آسان بنانے سے انہیں طویل عرصے تک رہنے میں مدد ملے گی۔ ایڈیڈاس میں چھٹنی کی خبر ایسے وقت میں آئی ہے، جب دنیا بھر کی ٹیک کمپنیاں اپنے ملازمین کی تعداد کم کر رہی ہیں۔ بڑی بڑی کمپنیاں اپنے اخراجات میں تخفیف کرنے کے لیے مسلسل ’ری اسٹرکچرنگ‘ کر رہی ہیں۔ اوریکل جیسی بڑی کمپنی میں بھی چھٹنی کا دور شروع ہو چکا ہے۔ وہاں بھی 14 ستمبر کو کئی ملازمین  کو بتا دیا گیا ہے کہ انہیں ہٹایا جا رہا ہے۔ بازار کے ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے کچھ مہینوں تک ٹیک انڈسٹری میں افراتفری جاری رہ سکتی ہے۔