’’125 سال سے مسلسل روشن دنیا کا واحد بلب‘‘

Wait 5 sec.

(19 ستمبر 2026): آج کل بلب چند گھنٹے یا زیادہ سے زیادہ چند سو گھنٹے چلتے ہیں لیکن دنیا میں ایک بلب ایسا بھی ہے جو مسلسل 125 سال سے روشن ہے۔تھامس ایڈیسن کی ایجاد بلب آج مختلف صورتوں میں دنیا بھر کو روشن کیے ہوئے ہیں۔ موجودہ دور میں بلب اکثر فیوز ہو جاتے ہیں یا پھر چند سو یا چند ہزار گھنٹے ہی چل پاتے ہیں۔تاہم دنیا میں ایک بلب ایسا بھی ہے جو 125 سال سے روشن ہے اور اسی بنیاد پر اس گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں وہ دنیا میں سب سے زیادہ عرصے تک جلنے والے بلب کے طور پر درج ہے۔ اس ہفتے کے آخری دن سنیچر 19 ستمبر کو اس بلب کی 125 ویں سالگرہ منائی جائے گی۔یہ تاریخی ‘سنٹینیئل لائٹ بلب’، جس کو شیلبی الیکٹرک کمپنی نے ہاتھ سے تیار کیا تھا۔ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لیورمور کے ایک فائر اسٹیشن میں 1901 میں نصب کیا گیا تھا، جہاں یہ فائر فائٹرز کے لیے رات کی روشنی کے طور پر استعمال ہوتا تھا، جو تب سے اب تک مسلسل روشن ہے۔بعد ازاں اس کو ایسٹ ایونیو پر واقع فائر اسٹیشن منتقل کر دیا گیا۔ یہ بلب ابتدا میں 60 واٹ کا تھا، لیکن اب تقریباً 4 واٹ بجلی استعمال کرتا ہے۔ مدہم روشنی دینے والا یہ کاربن فلیمینٹ بلب سائنس دانوں اور انجینئرز کے لیے ایک طویل عرصے سے حیرت کا باعث بنا ہوا ہے۔اگرچہ اس دوران یہ بلب چند بار مختصر وقت کے لیے بند ہوا، تاہم اس کی وجہ بلب کی خرابی نہیں بلکہ بجلی کی سپلائی منقطع ہونا یا بلب کا کسی دوسرے مقام پر منتقل ہونا تھا، یہی وجہ ہے بلب کو مسلسل روشن مانا جاتا ہے۔اس بلب کی اس قدر طویل عمر کے پیچھے قدیم دور کی پائیدار مینوفیکچرنگ اور کچھ تکنیکی عوامل کارفرما ہیں۔ اسے ایڈولف شائلر نامی انجینئر نے ڈیزائن کیا تھا، جس کا فلیمینٹ جدید بلبوں کے ٹنگسٹن فلیمینٹ کے مقابلے میں 8 گنا زیادہ موٹا ہے اور اسے ویکیوم کے بہترین نظام کے ساتھ سیل کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ یہ چار وولٹ کا ہونے کے باعث بہت کم بجلی (وولٹیج) پر چلتا ہے، جس کی وجہ سے اس کا فلیمینٹ زیادہ گرم ہو کر ٹوٹتا نہیں ہے۔دنیا کے پائیدار ترین اور حیرت انگیز بلب کو دیکھنے کے لیے ہر سال ہزاروں سیاح مذکورہ فائر اسٹیشن کا رخ کرتے ہیں، جبکہ انٹرنیٹ پر ایک لائیو ویب کیم کے ذریعے 24 گھنٹے اس کی نگرانی بھی کی جاتی ہے۔