تل ابیب: اسرائیل اور مراکش نے سفارتی تعلقات بڑھانے کا اعلان کردیا۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی حکومت کے مطابق اسرائیل اور مراکش نے سفارتخانے کھولنے اور دونوں ملکوں میں سفیر تعینات کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔رپورٹس کے مطابق مراکش ان چار عرب ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے 2020 میں امر یکی ثالثی میں طے پانے والے معاہدوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو بڑھاوا دیا۔اسرائیل کے ساتھ تعلقات بڑھانے والے دیگر عرب ممالک میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان شامل ہیں۔دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے غزہ میں نسل کشی کے مرتکب اسرائیل کو مزید اربوں ڈالر کا اسلحہ فراہم کرنے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا۔ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا اسرائیل کو 2.8 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کا منصوبہ ہے جس میں تباہ کن 2000 پاؤنڈز کے ہزاروں بم شامل ہوں گے۔منصوبے سے باخبر ذرائع کے مطابق اس میں 20 ہزار ایم کے 84 اور 20 ہزار بی ایل یو-117 بم شامل ہیں، منصوبے کے حوالے سے کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو غیر رسمی طور پر آگاہ کر دیا گیا۔منصوبے کے بارے میں سب سے پہلے واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا تھا، تاہم امریکی محکمہ خارجہ اور اسرائیلی سفارتخانے نے اس پر کوئی وضاحت جاری نہیں کی۔امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کا مواخذہ کرنے کی قرارداد ایوان میں پیش2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل کیلیے امریکی عوام کی حمایت میں کمی آئی ہے۔ جون میں کوئنپیاک یونیورسٹی کے ایک سروے کے مطابق 48 فیصد ووٹرز اور 66 فیصد ڈیموکریٹس کا یہ ماننا ہے کہ امریکا اسرائیل کی ضرورت سے زیادہ حمایت کر رہا ہے۔