نئی دہلی: جنتر منتر پر جولائی میں ہوئے طلبہ کے احتجاج کے دوران ایک طالبہ کارکن کے والد پر حملے کے معاملے میں گرفتار سوتنتر بھاردواج کو دہلی کے پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے 3 ہفتے کی عبوری ضمانت دے دی ہے۔ سوتنتر پر الزام ہے کہ اس نے احتجاج کے دوران ایک طالبہ کے والد سنجے آزاد کے ساتھ مارپیٹ کی تھی۔عدالت نے سوتنتر بھاردواج درخواست ضمانت پر 15 ستمبر کو حکم سنانے کا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ 14 ستمبر کو ہونے والی سماعت کے دوران ان کے وکیل نے عدالت میں ضمانت کے حق میں دلائل پیش کیے۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے سوتنتر بھاردواج کو 3 ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت دینے کا فیصلہ کیا۔سوتنتر بھاردواج کے وکیل امیش شرما نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ انہوں نے اپنے موکل کے لیے مستقل ضمانت (ریگولر بیل) کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ عدالت کے موجودہ فیصلے کا مطالعہ کرنے کے بعد مستقل ضمانت کے لیے دوبارہ کوشش کریں گے۔یہ معاملہ اس وقت قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنا جب سوتنتر بھاردواج کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ ویڈیو میں انہیں یہ کہتے ہوئے دیکھا گیا کہ انہوں نے ایک طالبہ کارکن کے والد کا سر پھوڑ دیا تھا، لیکن اپنے اعلیٰ سیاسی روابط کی وجہ سے وہ گرفتار نہیں ہوئے۔ویڈیو میں سوتنتر بھاردواج نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں چراغ پاسوان اور کپل مشرا کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں اپنا بڑا بھائی قرار دیا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کا نام لیتے ہوئے بھی ایسا ہی دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ یہی سیاسی روابط انہیں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ویڈیو سامنے آنے کے بعد ان کی گرفتاری کا مطالبہ تیز ہوگیا تھا۔ کئی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے بھی سوتنتر بھاردواج کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے بعد سوتنتر بھاردواج کی گرفتاری کے مطالبے کو لے کر احتجاج بھی کیا گیا۔ 4 ستمبر کو دہلی پولیس نے انہیں بلندشہر سے حراست میں لیا تھا۔ اس کے دو روز بعد پولیس نے سخت دفعات کے تحت انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا تھا۔اس معاملے میں سوتنتر بھاردواج کے خلاف ایس سی-ایس ٹی ایکٹ سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔ معاملے میں پوکسو ایکٹ کا حوالہ بھی سامنے آیا ہے، جس کے باعث عدالت نے سماعت بند کمرے میں کیمرے کی نگرانی میں کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ عدالت کی جانب سے تین ہفتے کی عبوری ضمانت ملنے سے سوتنتر بھاردواج کو فی الحال راحت ملی ہے، تاہم مقدمے کی قانونی کارروائی جاری رہے گی۔