حکومت کی اپیل کے باوجود ڈی ٹی سی بس ڈرائیورس کی ہڑتال جاری، مسافروں کو پریشانی کا سامنا

Wait 5 sec.

دہلی میں ’ڈی ٹی سی‘ (دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن) بسوں کی ہڑتال ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ جمعرات کو دہلی حکومت میں وزیر برائے ٹرانسپورٹ پنکج سنگھ نے ہڑتال کر رہے ڈرائیورس سے کام پر واپس آنے کی اپیل کی ، لیکن اس کا کوئی اثر دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ پنکج سنگھ نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈرائیورس کے بیشتر مطالبات مان لیے گئے ہیں۔ اب صرف تنخواہ بڑھانے کا مسئلہ باقی ہے اور اس پر محکمہ محنت سے بات چیت کے بعد فیصلہ لیا جائے گا۔ٹرانسپورٹ وزیر پنکج سنگھ نے تازہ حالات کی جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ ’’ڈرائیورس اور پرائیویٹ کنسیشنرز کے ساتھ میٹنگ ہوئی ہے۔ اس میں کئی مطالبات پر اتفاق رائے ہوا ہے۔ ہم نے ڈرائیوروں سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ ضروری خدمات پر اس کا اثر نہیں پڑنا چاہیے۔‘‘ تاہم ڈرائیورس کی جانب سے فی الحال ہڑتال ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ احتجاج کر رہے ڈرائیورس کا کہنا ہے کہ بات چیت جاری ہے، لیکن ابھی کوئی ٹھوس حل نہیں نکلا ہے۔ ایک بس ڈرائیور نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ایسا حل نکالنا چاہیے، جس سے پرائیویٹ وینڈرز کے ساتھ کام کرنے میں انہیں پریشانی نہ ہو۔قابل ذکر ہے کہ ڈی ٹی سی ڈرائیورس کی ہڑتال جمعہ کے روز چوتھے دن میں داخل ہو چکی ہے۔ رانی کھیڑا، راج گھاٹ، نہرو پلیس، براڑی، وزیرپور، گھمن ہیڑا اور سریتا وہار سمیت کئی ڈپو میں ڈرائیورس ہڑتال پر ہیں۔ ڈی ٹی سی ایمپلائیز ایکتا یونین نے دعویٰ کیا ہے کہ تقریباً 90 فیصد ڈرائیورس اس ہڑتال میں شامل ہیں۔ اس ہڑتال کا براہ راست اثر دہلی کے مسافروں پر پڑا ہے۔ بسیں کم چلنے سے روزانہ سفر کرنے والے لوگوں کی پریشانی بہت بڑھ گئی ہے۔ لوگوں کو دفتر، کالج اور دیگر کاموں کے لیے دوسرے ذرائع کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔بسیں نہ ملنے کی وجہ سے مسافروں کے سامنے آٹو اور ای-رکشہ کا متبادل رہ گیا ہے۔ مسافروں کے ساتھ سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ کئی جگہوں پر آٹو اور ای-رکشہ کا کرایہ معمول سے کافی بڑھ گیا ہے۔ کچھ مسافروں کے مطابق 20 روپے کے سفر کے لیے اب 100 روپے یا اس سے زیادہ مانگے جا رہے ہیں۔ کچھ راستوں پر 50 سے 300 روپے تک کرایہ مانگے جانے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ہڑتال کا اثر صرف دفتر جانے والوں پر نہیں پڑ رہا، بلکہ اسپتال جانے والے لوگوں کو بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ آٹو کا کرایہ زیادہ ہونے کی وجہ سے انہیں سائیکل سے اسپتال جانا پڑا۔ کچھ لوگ بیمار بچوں کو بھی سائیکل سے اسپتال لے کر پہنچے۔ طلبا کی پریشانی بھی بڑھ گئی ہے۔ بس نہ ملنے پر انہیں آٹو لینا پڑ رہا ہے۔ اس سے روزانہ کا سفر مہنگا ہو گیا ہے۔ اب سبھی کو دہلی میں ڈی ٹی سی بس سروس معمول پر آنے کا انتظار ہے۔ حکومت نے ڈرائیورس سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل تو کی ہے، لیکن ڈرائیورس کا واضح لفظوں میں کہنا ہے کہ جب تک ان کے مسائل کا ٹھوس حل نہیں نکلتا، تب تک ان کی تحریک جاری رہے گی۔