35 منٹ کی تاخیر پڑی بھاری، ایئر انڈیا کے پائلٹ سمیت عملہ کے 8 اراکین کو 3 ماہ کے لیے کیا گیا معطل

Wait 5 sec.

ایئر انڈیا ایکسپریس نے ایک سخت قدم اٹھاتے ہوئے عملہ کے 8 اراکین کو 3 ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے۔ ان میں 4 پائلٹ اور 4 کیبن کریو اراکین شامل ہیں۔ معاملہ 2 اگست 2026 کا ہے، جب دبئی سے امرتسر پہنچی ایئر انڈیا ایکسپریس کی پرواز کے عملہ نے ضروری ’پوسٹ فلائٹ بریتھ اینالائزر ٹیسٹ‘ مقررہ وقت کے بعد کرایا۔#AirIndiaExpress suspends 4 pilots and 4 cabin crew for missing breath test deadline.https://t.co/KwiYhkXAA0— News9 (@News9Tweets) September 18, 2026میڈیا رپورٹس کے مطابق ایئر انڈیا ایکسپریس کی پرواز اے ایکس-192 صبح 9.50 بجے امرتسر کے سری گرو رام داس جی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچی تھی۔ ڈی جی سی اے کے قواعد کے مطابق بین الاقوامی پرواز چلانے والی ہندوستانی ایئرلائنز کے عملہ کے لیے ضروری ہے کہ ہندوستان میں لینڈنگ کے 2 گھنٹے کے اندر پوسٹ فلائٹ الکحل ٹیسٹ کرایا جائے۔ لیکن اس پرواز کے عملہ میں شامل 8 اراکین 2 گھنٹے 35 منٹ بعد ٹیسٹ کے لیے پہنچے۔ یعنی مقررہ وقت سے 35 منٹ کی تاخیر ہوئی۔ ایئرلائن کے قواعد کے مطابق تمام عملہ کے اراکین کا ٹیسٹ کرایا گیا اور سبھی کی رپورٹ منفی آئی۔ اس کے باوجود مقررہ وقت کی پابندی نہ کرنے پر کارروائی کی گئی۔ذرائع کے مطابق پرواز کے لینڈ کرنے کے بعد عملہ کے ایک رکن کی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔ اس کے بعد عملہ کے تمام اراکین ضروری پوسٹ ارائیول رسمی کارروائیاں مکمل کر کے اپنے مقررہ ہوٹل چلے گئے۔ بعد میں وہ ٹیسٹ کرانے کے لیے ایئرپورٹ واپس آئے۔ تاہم، جب وہ ایئرپورٹ پہنچے تو پرواز کو لینڈ کیے 2 گھنٹے 35 منٹ ہو چکے تھے۔ اس وجہ سے ڈی جی سی اے کے مقررہ 2 گھنٹے کے ضابطے کی پابندی نہیں ہو سکی۔On 2 August 2026, the flight crew of an Air India Express flight from Dubai to Amritsar was required to undergo the mandatory post-flight declaration within two hours of landing. However, they were delayed by 35 minutes and submitted the declaration after 2 hours and 35 minutes.…— ANI (@ANI) September 18, 2026ایئر انڈیا ایکسپریس نے اس معاملے کی اطلاع ڈی جی سی اے کو دی۔ ذرائع کے مطابق قواعد کے تحت ایئرلائن نے عملہ کے تمام 8 اراکین کو فوری طور پر ڈیوٹی سے ہٹا دیا اور 3 ماہ کے لیے معطل کر دیا۔ اس معاملے میں 4 پائلٹ اور 4 کیبن کریو ممبر شامل ہیں۔ فی الحال عملہ کے ان آٹھوں اراکین کی شناخت اور ان سے متعلق دیگر معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔